رسائی کے لنکس

عراق میں نئی حکومت قائم، امریکہ کا خیر مقدم


عراق کے نئے وزیرِاعظم حیدر العبادی

عراق کے نئے وزیرِاعظم حیدر العبادی

عراقی پارلیمان کی جانب سے کابینہ کے ناموں کی منظوری ملنے کے فوراً بعد امریکی صدر براک اوباما نے عراقی وزیرِاعظم کو ٹیلی فون کیا ہے۔

عراقی کی پارلیمان نے وزیرِاعظم حیدر العبادی کی سربراہی میں قائم ہونےو الی نئی حکومت کے قیام کی منظوری دیدی ہے جب کہ امریکہ نے نئی حکومت کا خیر مقدم کیا ہے۔

عراقی پارلیمان کی جانب سے کابینہ کے ناموں کی منظوری ملنے کے فوراً بعد امریکی صدر براک اوباما نے عراقی وزیرِاعظم کو ٹیلی فون کیا ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ نئی عراقی حکومت کو عراقی باشندوں کے تحفظات دور کرنے اور توقعات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی نئی عراقی حکومت کے قیام کو "ایک اہم سنگِ میل" قرار دیتےہوئے امریکہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی ہے۔

پیر کی شام واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ بغداد میں بننے والی نئی حکومت تمام عراقی شہریوں کو متحد کرکے ایک مضبوط اور مستحکم عراق کے قیام کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس سے قبل عراقی وزیرِاعظم حیدر العبادی نے پیر کی شب ہونےو الے پارلیمان کے خصوصی اجلاس میں اپنی کابینہ کے ارکان کے نام پیش کیے جنہیں ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔

وزیرِاعظم العبادی نے اپنی نئی کابینہ میں عراق کی شیعہ اکثریت کے ساتھ ساتھ سنی اور کرد اقلیتوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا ہے۔

نئی کابینہ میں داخلہ اور دفاع کے وزرا کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن وزیرِاعظم نے پارلیمان کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان دونوں اہم عہدوں پر ایک ہفتے کے اندر تقرر کردیں گے۔

ان دونوں عہدوں پر تقرر کے بعد کابینہ کے ارکان کی تعداد 37 ہوجائے گی۔

العبادی نے اپنی کابینہ میں سابق عبوری وزیرِاعظم ابراہیم الجعفری کو وزیرِ خارجہ مقرر کیا ہے جب کہ 'اسلامک سپریم کونسل آف عراق' کے رہنما عادل عبدل مہدی کو تیل کی وزارت سونپی گئی ہے۔کرد رہنما روش شاویز کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔

وزیرِاعظم نے کرد رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ ہوشیار زیباری ، سیکولر سنی رہنما صالح المطلق، شیعہ رہنمااور سابق رکنِ پارلیمان بہا اراجی کو نائب وزرائے اعظم مقرر کیا ہے۔ المطلق سابق وزیرِاعظم نوری المالکی کی حکومت میں بھی اسی عہدے پر تعینات تھے۔

عراقی پارلیمان نے سابق وزرائے اعظم نوری المالکی اور ایاد علاوی اور گزشتہ پارلیمان کے اسپیکر اسامہ النجفی کو نائب صدر مقررکرنے کی بھی منظوری دیدی ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں نائب صدر کا عہدہ نمائشی حیثیت کا ہے اور اس عہدے پر تعینات ہونےو الے تینوں رہنما ایک دوسرے کے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں۔

عراق کے نئے وزیرِاعظم حیدر العبادی کا تعلق بھی سابق وزیرِاعظم نوری المالکی کی شیعہ جماعت 'اسلامسٹ دعوۃ پارٹی' سے ہے جنہوں نے عراق کے نیم خود مختار علاقے عراقی کردستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی، اختیارات کی تقسیم اور عراقی فوج کی تعمیرِ نو کو اپنی حکومت کی ترجیحات قرار دیا ہے۔

پارلیمان کی جانب سے کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد اپنے خطاب میں عراقی وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ عراق کے تمام طبقات کو ساتھ ملا کرشدت پسند تنظیم 'دولتِ اسلامیہ' کا مقابلہ کریں گے جس نے عراق کے 30 فی صد رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG