رسائی کے لنکس

امریکہ میں انتہائی اہم مقدمہ زیر سماعت

  • جم میلون

مقدمے کے حامی اور مخالف

مقدمے کے حامی اور مخالف

پیر کے روز امریکی سپریم کورٹ میں ایک انتہائی اہم کیس شروع ہوا۔ اب تک صدر اوباما کے عہد صدارت کا اہم ترین کارنامہ علاج معالجے کا قانون ہے ۔ اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور پیر کے روز اس سلسلے میں زبانی دلائل شروع ہوئے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس کیس کا جو بھی فیصلہ ہو گا اس سے نہ صرف اس سال کا صدارتی انتخاب متاثر ہو گا بلکہ آنے والے عشروں میں علاج معالجے کی سہولتوں اور ان کے اخراجات پر بھی اثر پڑے گا ۔

علاج معالجے کے قانون کا کیس شروع ہوا تو سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر مظاہرین کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ کچھ لوگ اس قانون کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے اور کچھ مخالفت میں۔ بعض اوقات وہ ایک دوسرے سے بحث کرنے لگتے، لیکن وہ سب شائستہ اور پُر امن رہے ۔ اڈ ہال علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے قانون کے حامی ہیں۔ انھوں نے کہا’’بدقسمتی یہ ہوئی ہے کہ یہ قانون عظیم کساد بازاری کے دور میں منظور ہوا ہے جب لوگوں کا موڈ اچھا نہیں ہے ۔ لیکن اس قسم کے قانون کی منظوری کے لیے سو برس سے جدو جہد ہوتی رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسا قانون بنے اور ہم دنیا کے بقیہ ملکوں کی صف میں شامل ہو جائیں۔‘‘

ڈاویٹا نامی ایک خاتون بھی اس قانون کی حامی ہیں کیوں کہ اس طرح ان کروڑوں لوگوں کو بھی جو ہیلتھ انشورنس کی استطاعت نہیں رکھتے، علاج معالجے کی سہولتیں مل جائیں گی۔ وہ کہتی ہیں’’کیوں کہ ہم سب کو علاج معالجے کی سہولتیں چاہئیں۔ اصل مسئلہ ان لوگوں کا نہیں ہے جن کے پاس ہیلتھ انشورنس ہے، بلکہ ان لوگوں کا ہے جنہیں یہ سہولت حاصل نہیں ہے ۔ میں یہاں اس لیے آئی ہوں کیوں کہ مجھے یہ سہولت حاصل ہے اور یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن میں ان لوگوں کے لیے یہاں آئی ہوں جن کے پاس انشورنس نہیں ہے۔‘‘

لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جو اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ ان میں کیلے فورنیا کے ڈینٹسٹ کین کیمپبل شامل ہیں۔ انہیں اس قانون کے اس حصے پر اعتراض ہے جس کے تحت ہر ایک کے لیے 2014 تک ہیلتھ انشورنس خریدنا ضروری ہے ورنہ انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔’’ واشنگٹن کے یہ بیوروکریٹ، انہیں میرے گھرانے کا نام بھی نہیں معلوم۔ وہ میرے بچوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ انہیں یہ کہنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ مجھے کیا خریدنا چاہیئے اور کیا کرنا چاہیئے ۔ انہیں میری زندگی میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘

کیمپبل ٹی پارٹی کے ایک گروپ میں سرگرم ہیں۔ اوباما قانون کی ایک اور مخالف، ریاست اوہایو کی ایمی برگٹن کا تعلق بھی ٹی پارٹی سے ہے ۔ وہ کہتی ہیں’’یہ قانون اپنی موجودہ شکل میں غیر آئینی ہے ۔ ہم علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے خلاف نہیں ۔ ہم تو صرف موجود قانون کے خلاف ہیں۔‘‘
امریکی سپریم کورٹ تین دن تک روزانہ ساڑھے پانچ گھنٹے تک زبانی دلائل سنے گی۔ کسی ایک کیس کو آج تک اتنا زیادہ وقت نہیں دیا گیا ہے ۔

اس قانون کے حامی کہتے ہیں کہ اس طرح علاج معالجے کی سہولتیں کروڑوں ایسے امریکیوں کو بھی مل جائیں گی جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے، اور طویل مدت میں علاج کے اخراجا ت کم ہو جائیں گے ۔ ہیلتھ کیئر کے قانون کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس قانون سے علاج معالجے کے اخراجات میں بہت سے زیادہ اضافہ ہو جائے گا اور علا ج کی کوالٹی خراب ہو جائے گی۔

اس کیس کے فیصلے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا سپریم کے کورٹ کے نو ججوں کی اکثریت اوباما انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دے گی اور اس قانون کو جائز قرار دے گی، یا مخالفین کا ساتھ دے گی اور کہے گی یہ قانون مرکزی حکومت کی طرف سے امریکی شہریوں کی زندگی میں غیر آئینی مداخلت کے مترادف ہے ۔

جون کے آخر تک عدالت جو بھی فیصلہ دے گی، اس کا امریکہ میں اس سال کے صدارتی انتخاب پر گہرا اثر پڑے گا۔

ریپبلیکن صدارتی امیدوار رک سینٹورم نے سپریم کورٹ کے سامنے کھڑے ہو کر رپورٹروں کے سامنے اپنے اس عہد کو دہرایا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے، تو اس قانون کو منسوخ کر دیں گے۔ انھوں نے کہا’’اگر ہم اپنی انتخابی مہم میں اوباما کیئر کو مرکزی مقام دیں، اور میں ایسا ہی کروں گا، اور اگر ہم کامیاب ہو جائیں، تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ کسی نہ کسی شکل میں اوباما کیئر کو منسوخ کر دیا جائے گا۔‘‘

زیریں عدالتوں میں اس قانون کے بارے میں مختلف فیصلے دیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس پر غور کر رہی ہے اور حتمی فیصلہ سنائے گی۔

دو برس گذر چکے ہیں جب امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے علاج معالجے کا قانون پاس کیا تھا ۔ لیکن رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں میں اس قانون کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے ۔

اس قانون کی مخالفت کی وجہ سے قدامت پسند ٹی پارٹی تحریک وجود میں آئی۔ اس تحریک نے ریپبلیکنز کو 2010 کے امریکی کانگریس کے انتخابات میں، ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG