رسائی کے لنکس

ہیلتھ کیئر نظام کے مسودہ قانون کی منظوری کے لیے مزید اقدامات ضروری

  • جم میلون

گذشتہ جمعے کو امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان نے کہا کہ وہ علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے متنازع مسودۂ قانون کی منظوری کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ جمعرات کے روز اس مسئلے پر صدر اوباما کی صدارت میں دونوں پارٹیوں کے ارکان کے درمیان سات گھنٹے بحث ہوئی تھی۔

جیسا کہ توقع تھی، علاج معالجے کے نظام کے بارے میں بحث کے اس طویل اجلاس کے نتیجے میں دونوں پارٹیوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیموکریٹس اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ انھیں ریپبلیکنز کی مدد ملتی ہے یا نہیں، ہیلتھ کیئر کے نظام میں اصلاح کو، جو داخلی امور میں صدر اوباما کی اولین ترجیح ہے، قانون کی شکل دینے کی آخری کوشش کریں گے ۔

اس اجلاس کے ذریعے جس میں دونوں پارٹیوں کے اہم ارکان کو مدعو کیا گیا تھا، فریقین کو اپنا اپنا موقف بیان کرنے کا موقع ملا۔ صدر اوباما نے موڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔لیکن دونوں پارٹیوں کے سخت موقف کی روشنی میں مسٹر اوباما نے اس ارادے کا اظہار کیا کہ وہ اور ان کے ڈیموکریٹک حلیف اس مسئلے پر آگے بڑھنے کو تیار ہیں اور عوام نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخاب میں اپنا فیصلہ سنا سکتے ہیں۔

ریپبلیکنز کو اس اجلاس میں مشترکہ موقف کی طرف پیش رفت کا کوئی امکان نظر نہیں آیا۔ سینٹ میں ریپبلیکن لیڈر، ریاست کنٹکی کے مِچ میک کونل Mitch McConnell نے کہا’’سچی بات یہ ہے کہ اس کانفرنس کا جو نتیجہ نکلا ہے اس سے میری حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ریپبلیکن 2,700 صفحات کے اس مسودۂ قانون کی حمایت کرے گا۔‘‘

اس میٹنگ کے نتیجے میں اتنا ضرور ہوا کہ علاج معالجے کے نظام کے بارے میں دونوں پارٹیوں کے درمیان نظریاتی اختلافات کُھل کر سامنے آ گئے ۔

میٹنگ میں شریک ہونے والے ڈیموکریٹس نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہیلتھ انشورنس کی سہولت ان امریکیوں تک پہنچائیں گے جنہیں آج کل یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد تقریباً تین کروڑ ہے ۔ سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر ہیری رِیڈ Harry Reid نے کہا کہ ایک سال کی بحث کے بعد، اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا ہے’’اصل اہمیت وقت کی ہے ۔ امریکہ کے لوگ پانچ عشروں سے اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم کچھ کریں اور ہم کچھ کرکے دکھائیں گے ۔‘‘

بہت سے سیاسی ماہرین نے کہا کہ ہیلتھ کیئر پر اس اجلاس سے دونوں پارٹیوں کے درمیان تعاون کی کوئی راہ نہیں نکلی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ کوئی سیاسی تماشہ ہو۔ Weekly Standard میگزین کے ایگزیکٹو ایڈیٹر فریڈ بارنز Fred Barnes نے کہا’’میرا فیصلہ یہ ہے کہ یہ ایک غیر معمولی میٹنگ ضرور تھی لیکن یہ بالکل بے نتیجہ رہی۔ دوسرے الفاظ میں اس میٹنگ سے علاج معالجے کے نظام کی اصلاح کے اس قانون کی منظور ی کے امکانات روشن نہیں ہوئے جو صدر اوباما بڑی شدت سے منظور کرانا چاہتے ہیں۔‘‘

اخبار نیو یارک ڈیلی نیوز کے سیاسی مبصر ٹام ڈی فرینک Tom DeFrank نے کہا’’نظریاتی اختلافات اتنے شدید ہیں کہ وہ ایک ساتھ مِل کر کام نہیں کر سکتے۔ اوباما نے بڑی کوشش کی کہ ریپبلیکنز کوئی درمیانی راہ تلاش کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی درمیانی راہ ہے ہی نہیں۔‘‘

ڈیموکریٹس کواب یہ طے کرنا ہے کہ وہ اصلاح کے قانون کی منظوری کے لیے کیا کریں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے ڈیموکریٹک بِل کے مخالف ہیں اگرچہ جائزوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ امریکی چاہتے ہیں کہ کانگریس علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے سلسلے میں ضرور کچھ کرے۔

ٹام ڈی فرینک کہتے ہیں کہ اگلے چند ہفتے صدر اوباما کے لیے بڑا سیاسی امتحان ثابت ہوں گے۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ حکومت کر سکتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کےلیے ضروری ہے کہ آپ کوئی قانون منظور کرائیں۔ اب تک قانون سازی کے سلسلے میں ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے۔ انہیں اس سال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی بھی فکر کرنی ہے ۔

ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ علاج معالجے کے نظام کے بارے میں وہ ریپبلیکنز کی تجاویز سننے کو تیار ہیں لیکن ہیلتھ کیئر کے بارے میں اس اجلاس میں کئی ریپبلیکنز نے صدر پر زور دیا کہ وہ ڈیموکریٹک مسودہ قانون کو یکسر مسترد کر دیں اور نئے سرے سے کام شروع کریں۔ریپبلیکنز اکثر رائے عامہ کے جائزوں میں عوامی مخالفت کا حوالہ دیتے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ اِس بِل کی مخالفت سے انہیں نومبر میں کانگریس کے انتخابات میں نشستیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG