رسائی کے لنکس

مغربی افریقہ میں حزب اللہ کے چار حامیوں پر امریکی تعزیرات


فائل

فائل

دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد، امریکی سرزمین پر اُن کے اثاثوں کو منجمد کردیا جائے گا اور امریکیوں پر اُن سے کسی طرح کا کاروباری لین دین کرنے پر پابندی ہوگی

امریکہ نےاُن چار لبنانی شہریوں پر تعزیرات لاگو کر دی ہیں، جن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے مغربی افریقہ میں پُرتشدد کارروائیوں کو پھیلانے کے سلسلے میں دہشت گرد گروپ، حزب اللہ کے عزائم کے فروغ میں مدد دی ہے۔

امریکی محکمہٴ خزانہ کا کہنا ہے کہ اِن چار لوگوں نے خطے میں حزب اللہ کے لیے رقوم اکٹھی کرنے اور شدت پسندوں کی بھرتی کا کام کیا، اور کچھ مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں کہ اُنھوں نے اس شدت پسند شیعہ گروپ کے نمائندوں کے طور پر فرائض ادا کیے، جسے امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم خیال کرتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ تعزیرات لگائے جانے والے اِن افراد، علی ابراہیم وفتیٰ، عباس لطفے فواز، علی احمد شہادی اور حشام نمر خنافر، نے حزب اللہ کی، بالترتیب، سیرا لیون، سینگال، آئیوری کوسٹ اور گیمبیا میں مدد فراہم کی۔

دہشت گرد قرار دیے جانے کی پاداش میں اگر اِن شہریوں کے امریکی علاقوں میں کسی طرح کے بھی اثاثے ہوں گے، تو اُن کو منجمد کردیا جائے گا اور امریکیوں پر اُن سے کسی طرح کا کاروباری لین دین کرنے پر پابندی ہوگی۔

منگل کو جاری کیے جانے والے اِس بیان میں محکمہٴخزانہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد قرار دینے سے حزب اللہ کی ’خطرناک دسترس‘ اور تنظیم کی پُر تشدد کارروائیوں اور جرائم سے متعلق حرکات کے لیے عالمی سطح پرفنڈ جمع کرنےاور بھرتی کے لیےنیٹ ورک کے قیام کی کوششوں پر سے پردہ اُٹھ گیا ہے۔

حزب اللہ کا قیام سنہ 1980کے اوائل میں لبنان عمل میں آیا اور اُسے روایتی طور پر ایران سے بے انتہا اعانت فراہم ہوتی رہی ہے۔

دہشت گردی اور مالی انٹیلی جنس کے قلمدان سے متعلق امریکی معاون وزیر خارجہ، ڈیوڈ کوہن کا کہنا ہے کہ افراد کے خلاف کیے جانے والے اقدام اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام پر لگنے والی تعزیرات کے بعد اب ایران کے مالی وسائل سکڑتے جا رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG