رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد کی نگرانی بڑھا دی: جنرل ڈنفورڈ


جنرل جوزف ڈینفورڈ

جنرل جوزف ڈینفورڈ

افغانستان میں امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ افغان فوجی اور امریکی فورسز پاکستان کی طرف سے فوجی آپریشن کے کسی بھی طرح کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

افغانستان میں تعینات اعلیٰ ترین امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد امریکہ نے پاک افغان سرحد کی نگرانی بڑھا دی ہے۔

جنرل جوزف ڈنفورڈ نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس "اے پی" کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ اس فوجی آپریشن کے سلسلے میں امریکہ پاکستان کے ساتھ رابطے میں نہیں تھا۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ افغان فوجی اور امریکی فورسز آپریشن کے کسی بھی طرح کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

جنرل ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ حکام نے پاکستانی فوج کی فضائی کارروائیوں سے بچنے کے لیے پاکستانی خاندانوں کو سرحد پار کرتے دیکھا ہے۔ ان کے بقول حکام تاحال اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کتنے خاندان تشدد سے بچنے کے لیے نقل مکانی کر کے افغانستان داخل ہوئے۔

پاکستانی فوج نے اتوار کو افغان سرحد سے ملحقہ اپنے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کی تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک عرصے سے پاکستان پر یہاں فوجی کارروائی کے لیے زور دیتے آئے ہیں۔

ان کا ماننا تھا کہ یہاں موجود القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند سرحد پار افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج پر مہلک حملے کرتے ہیں۔ پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ وہ فوجی کارروائی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں کے افغانستان فرار کو روکنے کے لیے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر حامد کرزئی کو ٹیلی فون کرکے سرحد بند کرنے میں تعاون کے لیے بھی کہا تھا۔
XS
SM
MD
LG