رسائی کے لنکس

جب آپ ایک پاکستانی اور مسلمان ہوتے ہوئے، خاص طور پر مسلم لاکھانی جیسے نام کے ساتھ آگے آتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں تو اس سے لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے میں مدد ملتی ہے ۔

امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والے بے گھر افراد کے لیے سال کے 365 دن ان کی اندھیری دنیا میں روشنی کی کرن بن کر ایک گاڑی آتی ہے جس میں بلا ناغہ کھانا لایا جاتا ہے۔

میجر سٹیو مورس ۔ سالویشن آرمی کی گریٹ پیٹرول نامی گاڑی گرمی سردی اور طوفان کی پرواہ کیے بغیر پورے شہر میں گشت کرتی ہے اور مختلف جگہوں پر رک کر بے گھر افراد کو خوراک فراہم کرتے ہیں۔

میجر سٹیو مورس واشنگٹن ڈی سی میں سالویشن آرمی کے ایریا کمانڈر ہیں۔ ہم نے میجر سٹیو مورس سے سالویشن آرمی کے واشنگٹن ڈی سی کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی اور ان سے اس خیراتی تنظیم کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ۔

سالویشن آرمی ایک خیراتی ادارہ ہے جس کا آغاز 145 سال پہلے انگلینڈ میں ہوا جب ایک پادری نے دیکھا کہ لندن میں پلوں کے نیچے اور سڑکوں پر شدید سردی میں لوگ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں۔تو اس طرح پادری ولیم بوتھ اور ان کی اہلیہ نے لندن میں اس ادارے کا آغاز کیا جسے ایک تحریک کا نام دیا گیا۔

میجر مورس

میجر مورس

میجر مورس کا کہنا ہےکہ 1865 میں شروع ہونے والا یہ ادارہ آج تقریباً 129 ملکوں میں نا صرف بے گھر افراد کو کھانا کھلا رہا ہے بلکہ قدرتی آفات سے نمٹنے اور غربت کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ، ان ملکوں میں موجود لوگوں کے لیے دیگر فلاحی کام بھی کر رہاہے۔ خاص طور پر بے گھر اور بے سہارا افراد کو کھانا اور کپڑے فراہم کرنا اس ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔

میجر مورس کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ ادارہ ایک عیسائی چرچ نے شروع کیا اور عیسائیت کی ترویج اس کے مقاصد میں شامل رہی ہے ، لیکن خیراتی کاموں میں سالویشن آرمی خالص انسانی بنیادوں پر کام کرتی ہے ۔ ’’ ہم جو بھی کام کررہے ہیں وہ مذہب، قومیت اور رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر کررہے ہیں۔ اگرچہ ہم ایک عیسائی آرگنائزیشن ہیں لیکن ہم انسانی محبت کی بنیاد پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘

سالویشن آرمی کی طرف سے واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر بے گھر افراد کو کھانا کھلانے کا یہ پروگرام گریٹ پیٹرول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کے تحت ہر روز 300 بے گھر افراد کو کھانا کھلایا جاتا ہے ، یعنی سال کے 109500 کھانے۔ اس پروگرام کے نام میں ہی اس کی افادیت چھپی ہے۔

میجر مورس کہتے ہیں کہ گریٹ سڑکوں کے نیچے بنے انڈر گراونڈ راستوں کے خارجی راستوں کو کہا جاتا ہے ۔ اگر آپ امریکہ کے کسی بھی بڑے شہر میں دیکھیں تو بڑی شاہراہوں کے ساتھ پیدل چلنے والے راستوں پر آپ کو لوہے کے جنگلے بچھے نظر آئیں گے ، جنھیں گریٹ کہا جاتا ہے۔ اور اکثر سردیوں میں ان میں سے بھاپ نکلتی نظر آتی ہے۔ جن پر بہت سے بے گھر افراد رات کو سوتے ہیں ، بلکے اکثر سرد یوں کے موسم میں دن کے وقت بھی ان پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے نکلنے والی بھاپ گرم ہوتی ہے جو عمارتوں کے ہیٹنگ اور کولنگ سسٹم کا اخراج ہوتی ہے۔ تو بے گھر افراد ان کے آس پاس ہی منڈلاتے رہتے ہیں۔

واشنگٹن میں سالویشن آرمی کی ایک گاڑی کا نام بھی گریٹ پیٹرول ہے ، جو واشنگٹن کی سڑکوں پر زندگی گزارنے والے بے گھر افراد کو کھانا فراہم کرتی ہے۔ یہ گاڑی ہر روز شام کو ایسی جگہوں پر رکتی ہے جہاں اکثر بے گھر افراد اکٹھے ہوتے ہیں ، جیسے ہی گاڑی نظر آتی ہے ، یہ افراد ایک لائن میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور انھیں مکمل کھانا فراہم کیا جاتا ہے جس میں اکثر روٹی، سوپ اور چاول ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی سالویشن آرمی کو ملنے والی امداد میں گرم کمبل اور کچھ اور سامان بھی ہوتا ہے جو بے گھر افراد میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔

میجر مورس کہتے ہیں کہ صرف گریٹ پیٹرول پر ان کا سالانہ خرچہ ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر ہے جو مختلف مخیر لوگوں کی خیرات سے ممکن ہو پاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں سال 2010 سے 2012 تک اس خاص پروگرام کا مکمل خرچہ ایک پاکستانی کاروباری شخصیت نے برداشت کیا ہے۔

مسلم لاکھانی واشنگٹن ڈی سی میں ایک انویسٹمنٹ کمپنی چلاتے ہیں اور تین سال سے اس کا پورا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔ میجر مورس کا کہنا ہے کہ ٕمسلم لاکھانی نے خود سے سالویشن آرمی سے رابطہ کیا اور وہ کچھ رقم خیرات کرنا چاہتے تھے ، لیکن جب انھوں نے بے گھر افراد کو کھانا کھلانے کے اس پروگرام کے بارے میں سنا تو انھوں نے اس پروگرام کو سپورٹ کرنے کی بات کی ۔ پہلے انھوں نے ہمارے ساتھ آکر خود ہمارے کام کرنے کے طریقہ کار کو دیکھا اور وہ اس سے بہت خوش ہوئے۔

مسلم لاکھانی

مسلم لاکھانی

مسلم لاکھانی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نیک کام کرنے کے لیے انھوں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ اس سے کس کو فائدہ ہوگا ، خاص طور پر یہاں ، سالویشن آرمی میں خیرات دیتے ہوئے انھیں مکمل اعتماد رہا کہ ان کا دیا ہوا پیسہ صحیح جگہ اور صحیح لوگوں پر خرچ ہوگا ۔ اور پھر جب انھوں نے خود سے جاکر سڑکوں پر لوگوں سے ملاقات کی اور دیکھا کہ سالویشن آرمی کتنی ایمانداری اور محنت سے لوگوں کی مدد کررہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں خیراتی کاموں کا طریقہ کار نہایت شفاف ہے جس کے باعث لوگوں میں اس حوالے سے جذبہ زیادہ موجود ہے۔ ٕمسلم لاکھانی پاکستان میں اسی طرح کے خیراتی کام کر رہے ہیں جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا ایک پروگرام بھی شامل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب آپ ایک پاکستانی اور مسلمان ہوتے ہوئے، خاص طور پر مسلم لاکھانی جیسے نام کے ساتھ آگے آتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں تو اس سے لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے میں مدد ملتی ہے ۔

ہم نے واشنگٹن کی سڑکوں پر گریٹ پیٹرول کی گاڑ ی کے ساتھ جا کر دیکھا کہ کیسے یہ گاڑی واشنگٹن میں مختلف جگہوں پر رک کر بے گھر افراد کو کھانا کھلاتی ہے ۔ اور خاص بات یہ دیکھنے کو ملی کہ اس کے لیے کام کرنے والے زیادہ تر افراد رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں اور ایسے لوگ ہیں جو پیسہ تو نہیں دے سکتے لیکن اپنا وقت اس نیک کام کو دیتے ہیں ۔

ایک بے گھر خاتون

ایک بے گھر خاتون

ایک رضا کار پیٹرک کا کہنا تھا کہ ’’ میں ایک اورخیراتی ادارے کے لیے کام کرتا ہوں جو سالویشن آرمی کو ہر بدھ کو بے گھر افراد کے لیے کھانا فراہم کرتی ہے اور یہاں لوگوں کو کھانا دینے آتا ہوں‘‘۔ ان کے ساتھ ان کی ایک دوست بھی تھیں جو جرمنی سے آئیں تھیں اور اس نیک کام میں وہ بھی ان کے ساتھ نکل پڑیں۔ پیٹرک کا کہنا تھا کہ ان کے لیے تو ایک نیک اور اچھا کام ہے جو نیکی کے ساتھ ساتھ زندگی کا ایک سبق بھی ہے۔

اور ان لوگوں کے اس اچھے کام کی اچھائی کا احساس ان بے گھر اور بے سہارا افراد کی آوازوں میں بھی نظر آیا۔ ایک بے گھر شخص کا کہنا تھا کہ وہ 17 سال سے یہاں سے کھانا کھا رہے ہیں اور یہ ایک ایسا کھانا ہے جس پر ان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ اگر کوئی مدد نہیں کرے گا تو سالویشن آرمی ضرور مدد کو آئے گی۔‘‘ ایک اور خاتون جو 4 سال سے بے گھر ہیں ، نے بتایا کہ وہ 24 گھنٹے یہاں کھانے کا انتظار کرتی ہیں وہ کسی کی مدد نہیں لینا چاہتی لیکن کھانا لینے یہاں ضرور آتی ہیں۔

دنیا بھر میں سالویشن آرمی جیسی کئی تنظیمیں ہیں جو بے گھر اور بے سہارا افراد کی مدد کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ لیکن میجر مورس کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ ہر روز جب ہم کھانا کھانے بیٹھیں تو یہ ضرور سوچیں کہ کہ ہمارے آس پاس کتنے لوگ ہیں جو آج بھوکے سوئیں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG