رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے خلاف تعزیرات سخت کرنے کا بل ایوان نمائندگان سے منظور


فائل فوٹو

امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا پر مالیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی تعزیرات کے مجوزہ قانون کو عملی شکل دینے کا ایک اور مرحلہ طے ہو گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے طرف سے شمالی کوریا کی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے مطالبے پر امریکہ کے ایوان نمائندگان نے اس مجوزہ بل کی منطوری دی ہے۔

ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے سربراہ ایڈ رائس جو بل کو آگے بڑھانے والوں میں شامل ہیں نے کہا کہ "اس قانون سازی کے تحت انتظامیہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شمالی کوریا کے جوہری میزائل کے خطرے سے تحفظ کا نیا مضبوط طریقہ کار حاصل ہو جائے گا، جس کے تحت ان (ملکوں) کو ہدف بنایا جا سکتا ہے جو (شمالی کوریا کی) حکومت کے جارحانہ عزائم میں معاونت کرتے ہیں۔"

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے کانگرس کے رکن رائس نے کہا کہ "یہ اقدام دنیا کے لیے اس بات کا مظہر ہے کہ ہم شمالی کوریا کے جارحانہ رویہ سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں اور دیگر کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کانگرس انتظامیہ کے ساتھ ہیں۔''

ان مجوزہ تعزیرات کی وجہ سے شمالی کوریا کی معاشی تنہائی میں اضافہ ہو جائے گا۔

اس بل کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ 90 دن کے اندر اس بات کا تعین کرے کہ کیا شمالی کوریا کو دوبارہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاست قرار دیا جائے۔

ایوان نمائندگان کی طرف سے شمالی کوریا کے خلاف تعزیرات عائد کرنے سے متعلق بل کی منظوری کئی ہفتوں سے جاری علاقائی کشیدگی کے بعد سامنے آئی۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی طرف سے اپنے ملک کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے تواتر کے ساتھ میزائل تجربات کیے گئے۔

گزشتہ جمعہ کو وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے شمالی کوریا کے خلاف تعزیرات کو سخت کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔

منگل کی سہ پہر ایوان نمائندگان میں بحث کے دوران رائس نے ٹلرسن کی طرف سے شمالی کوریا کے خلاف "دباؤ میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی" کو سراہا۔

اس بل کی دونوں جماعتوں کی طرف سے حمایت کی گئی، اب یہ بل سینیٹ کو بھیج دیا گیا اور وہاں بھی متوقع طور پر اسے منظور کر لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG