رسائی کے لنکس

امریکہ: ایوانِ نمائندگان میں نگرانی کا اصلاحاتی بل منظور


نیشنل سکیورٹی ایجنسی کا ڈیٹا سنٹر

نیشنل سکیورٹی ایجنسی کا ڈیٹا سنٹر

ایوان میں رپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے جوڈیشری چیئرمین باب گڈلاٹ نے کہا کہ ’یو ایس اے فریڈم ایکٹ‘ کی منظوری سے ثابت ہوتا ہے کہ رازداری اور قومی سلامتی میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھاری اکثریت سے ایک قانون منظور کیا ہے جو 11 ستمبر کے بعد منظور کیے جانے والے ’پیٹریاٹک ایکٹ‘ کی مدت میں توسیع کرتا ہے اور لاکھوں امریکیوں کے ٹیلی فون ڈیٹا بڑی مقدار میں جمع کرنے کا خاتمہ کرتا ہے۔

’یو ایس اے فریڈم ایکٹ‘ نامی یہ قانون دونوں پارٹیوں کی حمایت سے کامیاب ہوا جو عموماً ایوان میں منقسم رہتی ہیں، اور 88 کے مقابلے میں 338 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ تاہم سینیٹ میں اس قانون کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس بل کے مطابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے عدالت سے اجازت لے کر فون کمپنیوں سے رابطہ کرنا ہوگا۔

سابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن نے 2013ء میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے عام امریکیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے وسیع دائرہ کار کا انکشاف کرکے بین الاقوامی سطح پر تہلکہ مچا دیا تھا۔

ایک سال سے زائد عرصہ قبل قانون سازوں نے ایک قانون پر کام شروع کیا تھا جو انٹیلی جنس ایجنسیوں کو شہری آزادیوں کی خلاف ورزی کیے بغیر امریکیوں کو محفوظ بنانے کے ضروری اسباب فراہم کرے۔

ایوان میں رپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے جوڈیشری چیئرمین باب گڈلاٹ نے کہا کہ ’یو ایس اے فریڈم ایکٹ‘ کی منظوری سے ثابت ہوتا ہے کہ رازداری اور قومی سلامتی میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں نے کانگریس میں اپنے ساتھیوں اور امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ امریکی آزادی اور امریکی سلامتی ایک ساتھ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ بنیادی نظریات ہیں اور ایک دوسرے کو رد نہیں کرتے۔‘‘

ڈیموکریٹک نمائندے جان کونیئرز نے بھی دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے والے اس بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا یہ بڑی مقدار میں ٹیلی فون ڈیٹا جمع کرنے کا خاتمہ کرتا ہے اور امریکی عوام کو کسی بھی نئے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں شفافیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج ہمارے پاس نگرانی کے پروگراموں جو حد سے آگے بڑھ گئے تھے کو قابو میں کرنے کا ایک نایاب موقع ہے۔‘‘

تاہم دونوں پارٹیوں میں کچھ اختلافات بھی موجود ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ ارکان ’پیٹریاٹک ایکٹ‘ کی یکم جون کو میعاد ختم ہونے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ’یو ایس اے فریڈم ایکٹ‘ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے نگرانی کے پروگراموں کو قابو میں لانے کے لیے زیادہ مؤثر نہیں۔

اس کے برعکس سینیٹ میں سینیئر رپبلیکن سینیٹرز پیٹریاٹک ایکٹ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور نہ وسیع پیمانے پر نگرانی کی پروگراموں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو بڑی مقدار میں ٹیلی فون ڈیٹا جمع کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG