رسائی کے لنکس

شمالی امریکی ساحلی علاقے ہری کین آئرین کی زد میں، چار افراد ہلاک


لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کا انتباہ جاری کردیا گیا ہے

لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کا انتباہ جاری کردیا گیا ہے

ہری کین آئرین ہوا کے طوفانی جھکڑوں اور تیز بارشوں کے ساتھ امریکہ کے مشرقی ساحل سے مسلسل ٹکرا رہا ہے اور اس طوفان کے باعث اب تک چار افراد ہلاک اور زمینی اور فضائی ٹریفک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

آئرین ہفتے کی صبح نارتھ کیرولائنا کے ساحل سے ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں سڑکیں پانی سے بھر گئیں ، اور 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعث درخت اکھڑ گئے ۔ لگ بھگ دس لاکھ گھر اور کاروباری مراکز میں بجلی کا سلسلہ منقطع ہے ۔ امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ تین لوگ نارتھ کیرولائنا اور ایک ورجینیا میں ہلاک ہوا

طوفان کی شدت کم ہو کر کیٹگری ایک کی سطح پر ہے اور اور موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لگ بھگ 24 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل شمال اور شمال مشرق کی طرف بڑھتا رہے گا ۔ شدت میں کمی کے باوجو اب تک توقع ہے کہ آئرین نیو یارک ، واشنگٹن

فلاڈلفیا اور بوسٹن سمیت ملک کے کچھ انتہائی گنجان آباد علاقوں سے گزرے گا
ہفتے کی صبح صدر براک اوباما نے کمانڈ سنٹر کا دورہ کیا جہاں سینیر ایمرجنسی حکام ملک میں ہنگامی کارروائیوں کو مربوط کر رہے ہیں ۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ صورتحال اگلے 72 گھنٹوں تک نازک ہو گی
امریکی بحریہ نے ورجینیا میں متعین سیکنڈ فلیٹ کو کسی امکانی نقصان سے بچنے کے لیے سمندر کے اندر کی طرف جانے کا حکم دے دیا ہے ۔

ہرکین آئرین امریکہ کی مشرقی ریاستوں کے ساحلی علاقوں میں ہوا کے طوفانی جھکڑوں اور تیز بارشوں کے ساتھ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہاہے۔

طوفانوں کی نگرانی سے متعلق قومی مرکز کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیاہے مشرقی امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے بحراوقیانوس کے ساحلی علاقے میں طوفان کی شدت کیٹگری ایک کی سطح پر ہے اور وہ 24 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے شمال اور شمال مشرق کی جانب بڑھ رہاہے۔

ہفتے کے روز امریکی ادارےہوم لینڈ سیکیورٹی کی اعلیٰ عہدے دار جینٹ نیپولیٹانو نے اپنی بریفنگ میں ان علاقوں کے مکینوں کو، جہاں طوفان متوقع ہے، خبردار کیا ہے کہ وہ طوفان سے متعلق انتباہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں کیونکہ ابھی تو صرف آئرین کا آغاز ہی ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ جس علاقے کے مکینوں کو جگہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے، انہیں لازمی طورپر وہاں سے چلے جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طوفان کے راستے میں پڑنے والے جو علاقے خالی نہیں کرائے جارہے، وہاں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کے اندر ٹہرنا چاہیے۔

موسمیات کے ماہرین کا کہناہے کہ طوفان میں ہواؤں کی شدت 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کے لگ بھگ ہے اورموسمیاتی طوفان کی طاقت ور ہوائیں ایک بڑے علاقے کو اپنا نشانہ بنا سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ طوفان کے بیرونی دائرے میں بگولوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔

موسمیاتی اداروں نے پیش گوئی کی ہے طوفان کے ہفتہ کو امریکی ساحل سے ٹکرانے سے وسیع علاقے کے زیرِآب آنے ، بجلی کی ترسیل متاثر ہونے اور اربوں ڈالرز کے مالی نقصانات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

طوفان کے ممکنہ راستے میں آنے والے علاقوں میں لاکھوں امریکی باشندے مقیم ہیں جن میں سے بیشتر ممکنہ متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔

نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ نے شہر کی تاریخ میں پہلی بار رہائشیوں کے لازمی انخلاء کا حکم دیا ہے۔ شہر کے زیریں علاقوں بشمول وال اسٹریٹ کے رہائشی 25 لاکھ سے زائد افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔

تاریخ میں پہلی بار شہر کا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم بھی مکمل طور پر بند کیا جارہا ہے اور شہر میں ہفتے سے تمام سب وے ٹرینیں اور بسیں بند ہوجائیں گی۔ نیویارک کے تین اہم ترین ایئر پورٹس بھی ہفتے کی دوپہر سے بند کردیے جائیں گے۔

ملک کے مشرقی ساحلی علاقوں میں پہلے ہی سینکڑوں پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں ٹرین سروس بھی معطل ہوگئی ہے۔

گزشتہ روز اپنی نشری تقریر میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ پیش گوئیوں کے مطابق 'آئرین' امریکی تاریخ کا شدید ترین سمندری طوفان ہوگا۔اُنھوں نے کہا کہ قوم کو "بدترین صورتِ حال" کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

صدر اوباما طے شدہ پروگرام سے ایک روز قبل ہی اپنی تعطیلات ختم کرکے جمعہ کی شب میساچوسٹس سے واشنگٹن واپس پہنچے تھے جہاں انہوں نے تمام وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ طوفان کے پیشِ نظر تمام ضروری وسائل بہم رکھے جائیں۔

طوفان کے پیشِ نظر شمالی کیرولینا سے کنیک ٹیکٹ تک سات امریکی ریاستوں کے گورنرز نے اپنی اپنی حدود میں ہنگامی حالت کا نفاذ کردیا ہے۔

'آئرین' گزشتہ تین برسوں میں امریکہ کو نشانہ بنانے والا سب سے بڑا متوقع طوفان ہے۔ طوفان سے ہونے والی تباہی کے باعث پورٹو ریکو میں ایک اور ڈومینیکن ری پبلک میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جزائرِ بہاماس میں کئی گھر تباہ ہوگئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG