رسائی کے لنکس

غیر قانونی تارکین وطن بچوں کے علاج سے متعلق ’تشویش‘


لاس اینجلس میں لاطینی امریکی تارکین وطن کی ایک تنظیم نے میکسیکو اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ بچوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔

تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے جنوب مغربی امریکہ کے حراستی مراکز میں موجود تارکین وطن بشمول بچوں کے علاج معالجے سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں جب کہ دوسری طرف لوگوں کی غیر قانونی طور پر امریکہ آمد کو روکنے سمیت ان مسائل کے حل کے لیے بھی امریکہ سے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں میکسیکو اور امریکہ کی سرحد پار کرنے والوں میں تقریباً 52 ہزار سے زائد ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے ساتھ ان کا کوئی بڑا نہیں ہے۔ صدر براک اوباما نے اسے انسانی بحران قرار دیا ہے۔

رواں ہفتے غیر قانونی تارکین وطن کی ملک میں داخلے کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران احتجاج کرنے والوں نے جنوبی کیلیفورنیا میں بارڈر پٹرول پراسسنگ سنٹر جانے والی ان تین بسوں کو روک لیا جن پر خواتین اور بچوں سمیت زیر حراست غیر قانونی تارکین وطن سوار تھے۔

جمعرات کو لاس اینجلس میں لاطینی امریکی تارکین وطن کی ایک تنظیم نے میکسیکو اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ بچوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔

سلواڈورن امریکی کارکن لاس اینجلس میں میکسیکو کے قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے۔ تنظیم کی ایک سرگرم رکن ازابیل کارڈینس کا کہنا تھا کہ وہ دونوں حکومتوں سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

لیکن ایسی ہی ایک اور تنظیم کی کارکن زیومارا کورپینو اس بات پر حیران ہیں کہ ان بچوں کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا جو پہلے ہی زیر حراست ہیں۔

"اگر بڑوں کو روزانہ تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسے میں بچوں کے ساتھ کیسے سلوک کی توقع کی جا سکتی ہے۔"

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پناہ کے منتظر خاندانوں اور بچوں کے ساتھ مناسب سلوک کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

کم عمر تارکین وطن کی اکثریت وسطی افریقہ سے آتی ہے اور امریکہ میں اپنے عزیزوں کے ساتھ قیام کرتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کو بالآخر ملک بدر کر دی جاتی ہے۔

صدر اوباما نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کانگریس سے دو ارب ڈالر کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے نظام میں جامع اصلاحات سے اس مسئلے کا واحد دیرپا حل ہے۔

ایوان نمائندگان میں ریبپلکن ارکان کے رہنما جان بوئہنر کا کہنا ہے کہ ایسا رواں سال نہیں ہوسکتا اور ان کی ارکان سرحد پر سکیورٹی میں اضافہ چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG