رسائی کے لنکس

اس جائزے میں ان تمام امور کو شامل کیا گیا جن کے تحت امریکہ آنے اور یہاں سے جانے والوں کے علاوہ یہاں کا طویل المدت ویزا رکھنے والوں کو شمار کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں گزشتہ دو سالوں کے دوران قانونی اور غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی شرح اس قدر زیادہ ہے جو اکیسویں صدی کے آغاز سے نہیں دیکھی گئی۔

ان تارکین وطن کی قابل ذکر تعداد کا تعلق لاطینی امریکہ کی بجائے ایشیا ہے۔

سنٹر فار امیگریشن اسٹڈیز کی طرف سے تیار کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تیس لاکھ سے زائد تارکین وطن 2014ء سے 2015ء کے دوران قانونی طریقے سے امریکہ آئے جو کہ اس سے گزشتہ دو سالوں کی امریکہ آنے والوں کی شرح میں 39 فیصد زیادہ ہے۔

اس جائزے میں ان تمام امور کو شامل کیا گیا جن کے تحت امریکہ آنے اور یہاں سے جانے والوں کے علاوہ یہاں کا طویل المدت ویزا رکھنے والوں کو شمار کیا جاتا ہے۔

یہ نیا جائزہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو وہ غیرقانونی تارکین وطن کو روکنے کے لیے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کروائیں گے۔

سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ تارکین وطن کی اتنی بڑی تعداد میں امریکہ کا رخ کرنے میں یہاں کی صحتمند اقتصادیات، امیگریشن قوانین کے نفاذ میں کمی جیسے عوامل کے علاوہ قانونی طریقے سے امریکی امیگریشن نظام کی نوعیت جس کے تحت طلبا اور روزگار کے لیے آنے والوں کو طویل المدت ویزا کا اجرا کیا جاتا ہے، شامل ہیں۔

سینٹر نے امریکی حکومت کی طرف سے ماہانہ بنیادوں پر آبادی کے اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافے سے ہوا۔ اس میں میکسیکو میں شامل نہیں۔

XS
SM
MD
LG