رسائی کے لنکس

کلیدی سینیٹروں نے میکسیکو سے ملنے والی ملک کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ترک وطن کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک نئے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔

امریکی سینیٹرز جمعرات کے روز اِمی گریشن قوانین میں دور رس اصلاحات لانے کے معاملے پر سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

کلیدی سینیٹروں نے میکسیکو سے ملنے والی ملک کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ترک وطن کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک نئے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔

منصوبے کے تحت، 20000 ’بارڈر پیٹرول ایجنٹس‘ کی موجودہ نفری کو دوگنا کیا جائے گا، 1126 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگائی جائے گی اور نگرانی کے عمل کے لیے نئے ڈرونز خریدے جائیں گے، جن کے لیے رقوم فراہم کی جائیں گی۔

کئی ماہ سے جاری در پردہ مذاکرات کے بعد ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے چار چار سینیٹروں کے گروپ نے دور رس نتائج کی حامل اِمی گریشن اصلاحات کا پیکیج وضع کیا ہے۔

تاہم، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان کارنائن کی طرح کے کنزرویٹو ریپبلیکنز، اس بات پر احتجاج کر رہے ہیں کہ مسودے میں سرحدی سلامتی سے متعلق شقیں اتنی سخت نہیں جتنی وہ توقع کر رہے تھے۔

کارنائن کے بقول، ’لگتا ہے جنوب مغربی سرحد پر ہمارا کنٹرول نہیں رہا‘۔

زیادہ تر اِس قسم کی تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے، سرحدی کنٹرول کی غرض سے اسی نوع کی نئی شقوں کو شامل کیا گیا ہے۔

وسیع تر امی گریشن اصلاحات کے اِس بِل کو ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر براک اوباما کی تائید حاصل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کے کافی تعداد میں نمائندے اِس کی حمایت کریں گے۔

اِس مجوزہ قانون سازی میں اُن ایک کروڑ 10لاکھ تارکین وطن کے لیے شہریت کی راہ ہموار ہوگی، جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں۔ لیکن، باقاعدہ دستاویزات میں اُن کا اندراج نہیں ہوا۔

سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے قائد، ہیری ریڈ نے، جو ڈیموکریٹ ہیں، کہا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ تارکینِ وطن کے اِس گروپ کو امریکہ میں قانونی حیثیت حاصل ہو جائے۔

سینیٹ اِس بات کی خواہاں ہے کہ اس مجوزہ قانون سازی پر چار جولائی کی تعطیل سے قبل ووٹنگ مکمل ہو۔ منظوری کی صورت میں، اِسے ایوانِ نمائندگان کے سامنے لایا جائے گا، جہاں کی صورتِ حال واضح نہیں۔
XS
SM
MD
LG