رسائی کے لنکس

امیگریشن پر ریپبلیکنز کی تازہ تجویز ’قابلِ عمل نہیں‘: وائٹ ہاؤس


جے کارنی

جے کارنی

یہ ایسا ہی ہے کہ غیرقانونی طور پر یہاں لائے گئے کم عمر تارکینِ وطن کو تو قانونی درجہ دیا جائے، لیکن اُن کے والدین کو ملک بدر کیا جائے‘

وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کے ریپبلیکنز کی طرف سے امیگریشن سے متعلق سامنےلائی گئی تازہ ترین تجاویز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے کہ غیرقانونی طور پر یہاں لائے گئے کم عمر تارکینِ وطن کو تو قانونی درجہ دیا جائے، جب کہ اُن کے والدین کو ملک بدر کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’یہ تو کوئی قابلِٕ عمل حل نہیں ہوا‘۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے منگل کے دِن کہا کہ صدر سمجھتے ہیں کہ امیگریشن اصلاحات کو ’جامع‘ ہونا چاہیئے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ ’مضحکہ خیز‘ بات ہے کہ اِس معاملے پر کانگریس نے کوئی قانون منظور نہیں کی۔

یہ بیان چند ہی گھنٹےبعد سامنے آیا، جِس سے قبل وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر، ڈین فائفر نے ٹوٴٹر پر ایک سرکردہ ہسپانوی نژاد امریکی اخبار ’لا اوپینین‘ کے ایک ادریے سے منسلک کیے گئے ایک پیغام میں ریپبلیکن منصوبے کو مسترد کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایوان کے ریپبلیکنز کےتیار کردہ مسودہٴ قانون کو ممکنہ طور پر ’کِڈز ایکٹ‘ کا نام دیا جاسکتا ہے، جس کا مقصد اپنی مرضی کے بغیر سرحد کے اِس پار لائے جانے والے بچوں کو شہریت دینا ہے، جب کہ اُنھیں شہریت نہیں ملے گی جو جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُن بچوں کو یہاں لائے۔

ڈیموکریٹس اور امیگریشن کے وکلا ایسی قانون سازی کے خواہاں ہیں، جسے سینیٹ منظور کر چکی ہے، جِس میں ملک میں موجود تمام ایک کروڑ دس لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے شہریت کا راستہ کھولنے کی پیش کش کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG