رسائی کے لنکس

ہونولولو: امریکہ، بھارت، جاپان سہ فریقی ڈائیلاگ


فائل

فائل

مکالمے کا یہ سلسلہ 2011ء میں شروع ہوا، جو باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے۔اِس مکالمے میں باقاعدہ وسعت آئی ہے، جس سے علاقائی اور عالمی مفاد کے معاملے میں دلچسپی بڑھی ہے، ایسے میں جب تینوں ملک بحر ہند سے پیسیفک تک پھیلے ہوئے خطے میں تعاون کو وسیع کرنے پر تیار ہیں

امریکہ، بھارت، جاپان ساتواں سہ فریقی مکالمہ 26 جون کو ہونولولو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ’باہمی مفاد کے حامل وسیع تر علاقائی اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا‘۔

امریکی محکمہٴخارجہ کے ترجمان کی جانب سے ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، اجلاس کی کارروائی معاون وزیر برائے جنوب اور وسطی ایشیائی امور، نشوا بسوال اور مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل امور کے معاون وزیر، ڈینئل رسل نے کی۔

بھارتی وفد کی قیادت کرنے والوں میں بیرونی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹریز۔۔۔ وِنے کواترا، پرادیپ راوت اور امان دیپ گِل شامل تھے۔ ادھر، جاپان کے وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے جنوب مشرقی اور جنوب مغربی ایشیائی امور، تاکیو یمادا نے کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مکالمے میں مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی، جس میں ایشیا پیسیفک کے کثیر ملکی ادارے، میری ٹائم سکیورٹی، اور انسانی بنیادوں پر اعانت اور آفات سے نبردآزما ہونے کے لیے امداد کی فراہمی شامل ہے۔

ڈائیلاگ کا یہ سلسلہ 2011ء میں شروع ہوا، جو باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے۔اِس مکالمے میں باقاعدہ وسعت آئی ہے، جس سے علاقائی اور عالمی مفاد کے معمالے میں دلچسپی بڑھی ہے، ایسے میں جب تینوں ملک بحر ہند سے پیسیفک تک پھیلے ہوئے خطے میں تعاون کو وسیع کرنے پر تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG