رسائی کے لنکس

امریکہ کےلیے اندرونی خطرہ بڑھا ہے: مائیکل شرٹاف

  • ندیم یعقوب

مائیکل شرٹاف

مائیکل شرٹاف


نائین الیون کے بعد افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے مراکز کے خلاف آٹھ سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے باوجود ابھی تک خطرات ٹلے نہیں ہیں ۔امریکی داخلی سلامتی کے محکمے کے سابق وزیر مائیکل شرٹاف نے وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حال ہی میں رونما ہونے والے کچھ واقعات اندرونی دہشت گردی کے خطرات کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں۔

شرٹاف نے کرسمس کے موقع پر نائیجریا کے ایک دہشت گرد ابومطلب کے ایک امریکی طیارے میں دھماکے کی ناکام کوشش کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ اس خطرناک شخص کے خطرے کا احساس نہ کرنا اداروں کی ناکامی تھی۔ لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہمارے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے وہ شخص اس پیچیدہ بم کو جوڑنے میں ناکام رہا اور یہی ایک طرح سے ہماری کامیابی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے ایسے شخص کو کیوں طیارے پر سوار ہونے دیا؟ اس حوالے سے تحفظات اپنی جگہ جائز ہیں۔

سابق وزیر شرٹاف نے نئی امریکی انتظامیہ کے سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نئی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں ، مثلاً واچ لسٹ پر نام شامل کرنے کا عمل۔ لیکن حفاظتی انتظامات کے بنیادی ڈھانچے کو اگر دیکھا جائے تو زیادہ تر اقدامات اور طریقہ کار وہی ہیں جو ہم نے متعارف کرائے تھے۔ آپ کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دشمن اپنے طورپر طریقوں اور کارروائیوں کو بتدریج بہتر کرتا رہتا ہے اور ہم بھی کوئی قدم اٹھانے کے بعد اسی جگہ پر رک نہیں سکتے۔ ہمیں بھی اپنے آپ کو، اپنے سیکیورٹی آلات اور ٹیکنالوجی کو بہتر کرتے رہنا چاہیے۔

طیاروں پر مشکوک افراد کے سفر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں سفر کرنے والے افراد کے بارے میں اطلاعات ملتی تھیں جن میں جنوبی ایشیا اور خاص طورپر پاکستان ،یمن ،صومالیہ اور مغربی ممالک بھی شامل تھے۔ ایک چیز جس کے بارے میں ہم فکر مند تھے ، وہ صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں میں مغربی ممالک کے باشندوں کا جہادی تربیتی کیمپوں سے تربیت حاصل کرنا اور پھر دہشت گردی کی غرض سے واپس اپنے ملک بھجوایا جانا۔ اور ہم یقیناً صوبہ سرحد کی ان تربیت گاہوں کے بارے میں پریشان تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ کے اندر دہشت گردوں اور غیر متحرک گروپس کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ان کےمتعلق اتنے فکر مند نہیں ہیں جتنا کہ کچھ یورپی ممالک ہیں۔ لیکن اب چند سال پہلے کے مقابلے میں ہمارے خدشات بڑھے ہیں۔ ہم نے امریکیوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے واقعات دیکھتے ہیں۔ چاہیے وہ صومالی گروہ ہوں یا افغان ٹیکسی ڈرائیور۔ اور فوجی یونٹ فورڈ ہڈ کا واقعہ بھی اندرونی دہشت گردی کے خطرات کی ایک مثال ہے۔ اب یہ مسئلہ زیاد ہ نمایاں ہونا شروع ہوگیا ہے۔

دنیا کے کمزور انتظامی کنٹرول کے علاقوں میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک سوال پر مسٹر شرٹاف نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میڈیا نے پچھلے ایک ماہ میں اپنی توجہ اس طرف مرکوز کی ہے۔ لیکن یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم کئی سال سے اس پر توجہ دے رہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ایسی جگہ جہاں مرکزی حکومت کا کنٹرول نہیں ہوتا وہ دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ یمن کے علاوہ یہ مسئلہ صومالیہ اور شمالی افریقہ میں بھی ہے۔ امریکہ میں اب خطرہ ہے کہ ایسے امریکی جو انتہاپسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور یمن جا کر انتہاپسندنظریات کے بارے میں مزید تقویت حاصل کرتے ہیں، امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ایئرپورٹ سیکیورٹی کےبارے میں پوچھے گئے سوال پر مسٹر شرٹاف کا کہناتھا کہ ایئر پورٹ سیکیورٹی دنیاکے تمام مسافروں کے مفاد میں ہے۔ اس لیے کہ اگر جہاز تباہ ہوتا ہے تو اس میں نہ صرف امریکی شہری ہلاک ہوں گے بلکہ بہت سے دوسرے خطوں کے لوگ شامل ہوں گے۔ اس طرح کی کارروائی کےبعد آپ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اور کون لوگ ملوث ہیں اور وہ کسی اور جگہ سے جہاز میں سوار ہونے کی کوشش کریں گے۔ تو آپ کو ایسی صورت حال میں فوجی اقدامات کرنے اور ملک کے طویل المدت مفادات کے درمیان توازن رکھنا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG