رسائی کے لنکس

قندوز حملے میں مغویوں کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے ہیں: امریکی حکام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا جنت اور چار دیگر جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق تو کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ چھ افغان قیدی فوجی بھی فضائی حملے میں مارے گئے اور ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ قیدیوں کو طالبان نے مارا۔

امریکہ کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ اختتام ہفتہ افغانستان میں کی گئی ایک فضائی کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

گزشتہ ہفتہ کو قندوز شہر کے قریب ہونے والے فضائی حملے میں طالبان کے ایک کمانڈر کے علاوہ طالبان کی قید میں موجود چھ افغان شہریوں کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی لیکن اس کی تفصیلات پوری طرح سے واضح نہیں۔

محکمہ دفاع نے اس حملے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں طالبان کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں شہریوں کی ہلاکت کی خبروں کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان میں تعینات امریکی افواج کو زیادہ اختیارات تفویض کیے جانے کے بعد یہ پہلی کارروائی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق شمال مشرقی افغانستان میں پولیس کے ایک اعلیٰ کمانڈر شیر عزیز کمالوال نے بتایا کہ اس حملے میں طالبان کمانڈر جنت گل عثمانی اپنے چار دیگر شدت پسند ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

ان کے بقول یہ کمانڈر علاقے میں مبینہ طور پر اغوا کی وارداتوں میں ملوث تھا اور اس کی گاڑی کو فضائی کارروائی میں ضلع قندوز کے علاقے چاردرا میں نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ردعمل میں طالبان نے اپنی قید میں موجود چھ شہریوں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا جنت اور چار دیگر جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق تو کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ چھ افغان قیدی فوجی بھی فضائی حملے میں مارے گئے اور ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ قیدیوں کو طالبان نے مارا۔

ایک بیان میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ "ہمارے دشمن نے بعد ازاں یہ افواہیں پھیلائیں کہ مجاہدین نے قیدیوں کو دھماکے سے اڑا دیا، ہم اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔"

طالبان نے حال ہی میں قندوز کے گردونواح میں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ کیا ہے کہ اور سڑکوں پر سفر کرنے والے درجنوں افراد کو اغوا کر چکے ہیں۔

گزشتہ سال قندوز میں ہی ایک بین الاقوامی امدادی طبی تنظیم کے زیر انتظام چلنے والے اسپتال پر امریکی فضائی حملے سے مریضوں سمیت 42 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی حکام نے اسے انسانی اور تکنیکی غلطی کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG