رسائی کے لنکس

مریکی حکام نے معاہدے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اِس کی مالیت تقریباً 86 لاکھ ڈالر ہے۔ ادھر ایک بیان میں امور خارجہ کمیٹی کے چیرمین، ایڈ روئس نے کہا ہے کہ، ’’ایک بار پھر، اوباما انتظامیہ ایران کی قدامت پسند حکومت کو مزید نقدی فراہم کر رہی ہے‘‘

سنگِ میل جوہری سمجھوتے کی شقوں پر عمل درآمد میں ایران کی مدد کرتے ہوئے، امریکہ ایران سے ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے کلیدی عنصر، بھاری پانی کے 32 میٹرک ٹن خرید رہا ہے۔

امریکی محکمہٴ توانائی اور محکمہٴ خارجہ نے جمعے کے روز بھاری پانی خریدنے کی تصدیق کی۔

اس منصوبے کا اعلان اُس وقت ہوا جب امریکہ، ایران اور دیگر اہل کاروں کا ویانا میں اجلاس ہوا، جس کے پیش نظر ایران کے جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کو زیر غور لایا گیا، جس معاہدے کو ’جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے)‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

فوری طور پر ایک بیان میں، امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کلیدی کمیٹی کے سربراہ نے اس اعلان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے جوہری سمجھوتے کے ممکنہ مضمرات کے بارے میں جاری تشویش کا اظہار کیا۔

امور خارجہ کمیٹی کے چیرمین، ایڈ روئس کے الفاظ میں، ’’ایک بار پھر، اوباما انتظامیہ ایران کی قدامت پسند حکومت کو مزید نقدی فراہم کر رہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے امکان میں ناکامی کے باوجود، اس عمل سے ایران فروخت کے لیے زیادہ بھاری پانی پیدا کرے گا، جب کہ اُسے امریکی منظوری کی مہر لگ جائے گی‘‘۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ سمجھوتے کی مالیت تقریباً 86 لاکھ ڈالر ہے۔

محکمہٴ توانائی نے کہا ہے کہ اُسے توقع ہے کہ بھاری پانی امریکہ کے تحقیق اور تجارت سے وابستہ خریداروں کو بیچ دیا جائے گا۔ تاہم، عندیہ دیا کہ امریکہ نے مستقبل میں مزید خریداری طے نہیں کی۔

جمعے کے دِن جاری ہونے والے بیان میں محکمہٴ توانائی کے مطابق، ’’امریکہ ایران کا مستقل خریدار نہیں ہوگا‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ خصوصی طور پر ایران کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ ’جے سی پی او اے‘ معاہدے پر پورا اترے‘‘۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ متوقع طور پر ایران ’’اگلے چند ہفتوں‘‘ کے دوران بھاری پانی امریکہ کو فراہم کردے گا، جس مواد کے بارے میں محکمے کے ترجمان، جان کِربی نے بتایا کہ یہ ’’تابکاری کا موجب نہیں ہے اور اِس سے تحفظ کے بارے میں کسی قسم کی تشویش پیدا نہیں ہوگی‘‘۔

اس سمجھوتے کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آرہی ہے جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جمعے کو نیویارک میں ملاقات کی تیاری کررہے ہیں، جو اس ہفتے اُن کی دوسری ملاقات ہوگی۔

جمعرات کے روز، کِربی نے کہا تھا کہ دونوں اُن امور پر گفتگو کریں گے جن میں ’جے سی پی او اے‘ کے تحت ایران کو تعزیرات میں نرمی سے متعلق تشویش کے ساتھ ساتھ شام کی کشیدگی کو حل کرنے کی کوششوں کے بارے میں تشویش کا معاملہ شامل ہے۔

کیری اور ظریف اِس وقت نیو یارک میں ہیں جہاں موسیماتی تبدیلی کے پیرس معاہدے پر ’کثیر ملکی دستخط کی تقریب‘ میں شرکت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG