رسائی کے لنکس

ایران امریکہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر غور کررہا ہے: احمدی نژاد



ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت ہوسکتا ہے کہ امریکی جیلوں سے ایرانی قیدیوں کی رہائى کے بدلے میں ایران میں قید امریکی شہریوں کو رہا کردے۔

مسڑ احمدی نژاد نے منگل کے روز سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ ایران اس قسم کے کسی تبادلے کے بارے میں مذاکرات کررہا ہے۔انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا مذاکرات میں امریکی عہدے دار شریک ہیں ۔ نہ ہی انہوں نے یہ بتایا کہ وہ امریکہ کے جیلوں سے کن ایرانی قیدیوں کو رہاکرانا چاہتے ہیں۔

ایرانی حکام نے تین امریکی شہریوں کو گذشتہ جولائى میں اُس وقت حراست میں لے لیا تھا، جب وہ غلطی سے سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہوئے تھے۔ایران نے اُن پر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔ لیکن اُن کے اہلِ خاندان کا کہنا ہے کہ شَین بوئر، جَوش فَٹال اور سارا شورڈعراق میں کُردوں کے پہاڑی علاقے میں پیدل سیاحت کرتے ہوئے اتفاق سے ایران میں داخل ہوگئے تھے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اُن امریکیوں کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور اُس نے اُن کی رہائى کا مطالبہ کیا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ اُن پر مقدمہ چلائے گا۔ لیکن اُس نے مقدمے کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور دونوں ملکوں کے عہدے داروں کے درمیان برسرِ عام ملاقاتیں شاذونادر ہی ہوتی ہیں۔

ایران نے منگل کے روز امریکہ پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ خلیج فارس کے ملکوں میں میزائیل شکن دفاعی نظام نصب کرتے ہوئے ایران اور اُس کے ہمسایہ عرب ملکوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

امریکی عہدے داروں نے اتوار کے روز کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی میزائیلوں کے ممکنہ حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے خلیج کے چارملکوں میں خشکی پر پیٹرئیٹ میزائیل کے میزائیل شکن دفاعی نظام نصب کردیے ہے۔

ایرانی عہدے داروں نے منگل کے روز امریکہ پر ” ایران فوبیا“ میں مبتلا ہونے کا الزام عائد کیا ۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ مغربی ملک خلیج کے علاقے کے ملکوں کو کمزور رکھنا چاہتے ہیں اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان ملکوں کے درمیان خوشگوار دوستانہ تعلقات ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مغرب کے وجود کا انحصار ہی علاقے میں تفرقہ اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے پر ہے۔

مسٹر احمدی نژاد نے یہ بات دورے پر گئے ہوئے قطر کے ولی عہد شہزادہ تمیم بن حماد الثّانی کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی ہے۔

XS
SM
MD
LG