رسائی کے لنکس

امریکہ کا ایران کے ساتھ فوجی 'ہاٹ لائن' قائم کرنے پر غور:رپورٹ


امریکہ کا ایران کے ساتھ فوجی 'ہاٹ لائن' قائم کرنے پر غور:رپورٹ

امریکہ کا ایران کے ساتھ فوجی 'ہاٹ لائن' قائم کرنے پر غور:رپورٹ

ایک امریکی اخبار نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کےساتھ براہِ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ممکنہ طور پر وجہِ نزاع بننے والے تنازعات کی شدت کو کم کیا جاسکے۔

'دی وال اسٹریٹ جرنل' نے پیر کو شائع کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ منصوبے میں ایرانی بحریہ اور امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے درمیان رابطے کا قیام بھی زیرِغور ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کا یہ بحری بیڑا نزدیکی خلیجی ریاست بحرین میں تعینات ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام ایران کے اعلیٰ فوجی دستے 'پاسدارانِ انقلاب' کے زیرِ انتظام تیز رفتار بحری کشتیوں کے ایک بیڑے کے متعلق خاص طور پر تشویش میں مبتلا ہیں جو ماضی قریب میں کئی ممکنہ تصادموں کی وجہ بنتے بنتے رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی حکومت کی جانب سے اس براہِ راست رابطے کے قیام کی تجویز ایران کو پیش کی گئی ہے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس، پینٹا گون اور ایک ایرانی سفارت کار نے مذکورہ معاملہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات 1980ء سے منقطع ہیں۔

اخبار نے پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ بدستور "عدم استحکام پیدا کرنے کےایرانی اقدامات اور ارادوں" پر تشویش میں مبتلا ہے۔

امریکہ نے 2008ء میں ایرانی بحریہ کے ایک بیڑے پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی جہازوں کو خلیجِ ہرمز کی بحری گزرگاہ میں دھمکانے کی کوشش کی تھی۔ واقعہ کے ردِ عمل میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو اسے اس کے "سنگین نتائج" بھگتناہوں گے۔

ایران نے مذکورہ معاملہ کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے واقعہ کو غلط انداز سے پیش کرنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ فریقین کی جانب سے واقعہ کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی تھیں جن سے دونوں فریقوں کےبقول ان کے موقف کو تقویت ملتی تھی۔

گزشتہ برس بھی امریکی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ نگرانی پر معمور ایرانی بحریہ کے ایک طیارے نے خلیجِ اومان میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے 900 میٹر نزدیک تک پرواز کی تھی۔

واقعہ کے ردِ عمل میں ایران کے ذرائع ابلاغ نے ایرانی بحریہ کے ایک کمانڈر کےحوالے سے کہا تھا کہ ایرانی جہازوں کو کھلے پانیوں میں نگران پروازوں کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم کمانڈر نے امریکی الزام پر براہِ راست کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا۔

امریکہ ایران پر پڑوسی ملک عراق میں موجود امریکی فوجی دستوں پر حملوں میں معاونت اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات بھی عائد کرتا آیا ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے تہران کی جوہری سرگرمیوں اور اقوامِ متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاہم ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG