رسائی کے لنکس

ایران پر لازم ہے کہ لیونسن کی تلاش میں مدد کرے: ترجمان


فائل

فائل

بقول ترجمان، ’’اُن کے تعاون کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ جب آخری بار مسٹر لیونسن کو دیکھا گیا تھا، وہ ایران ہی میں تھے۔ اِس لیے، ہمارے ذہن میں واضح سوالات ہیں اور ہم ایرانیوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ اُن کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں اور اس وقت وہ کہاں ہونے چاہئیں‘‘

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران پر لازم ہے کہ وہ ایف بی آئی کے لاپتا ایجنٹ، رابرٹ لیونسن کا کھوج لگانے میں امریکی حکام کی مدد کرے، جو سنہ 2007 میں ایران میں لاپتا ہوگئے تھے۔

ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے وعدے کو ’’انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے‘‘، اور امید کرتا ہے کہ ایرانی وعدے کا بھرم رکھیں گے۔

بقول ترجمان، ’’اُن کے تعاون کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ جب آخری بار مسٹر لیونسن کو دیکھا گیا تھا، وہ ایران ہی میں تھے۔ اِس لیے، ہمارے ذہن میں واضح سوالات ہیں اور ہم ایرانیوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ اُن کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں اور اس وقت وہ کہاں ہونے چاہئیں‘‘۔

ارنیسٹ نے کہا کہ اُن کے پاس ایرانیوں سے کی جانے والی بات چیت کے بارے میں بہت سی اطلاعات نہیں ہیں۔ لیکن، ایف بی آئی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ہونے والا تعاون حوصلہ بخش ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور دیگر اعلیٰ امریکی اہل کاروں نے اِس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ، رابرٹ لیونسن کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، جو سنہ 2007سے ایران سے لاپتا ہیں۔

لیونسن کے لاپتا ہونے کی تاریخ کی مناسبت سے جاری کیے گئے ایک بیان میں، کیری نے کہا ہے کہ امریکی کا اتہ پتہ معلوم کرنے کے لیے حکومتِ ایران نے امریکہ کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا ہے، اور بقول اُن کے، ’’ہمیں ایران کے وعدے پہ یقین ہے‘‘۔

ایف بی آئی کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک معاملے میں حالیہ دِنوں ایرانی حکام کی جانب سے کیے گئے تعاون کے پیش نظر امریکہ کو حوصلہ ملا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ لیونسن کی تلاش امریکی حکومت کے لیے اولین ترجیح کا معاملہ ہے۔

امریکہ نے لیونسن کے بارے میں اطلاع پر جس سے اُن کی واپسی ممکن ہو، 50 لاکھ ڈالر کے انعام کی پیش کش کی ہے۔ تاہم، سنہ2007 سے اُن کا لاپتا ہونا یا زیر حراست ہونا ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ اُن کے سلامتی کے اداروں نے اُنھیں حراست میں لے رکھا ہے۔ لیکن، ایرانی حکام نے بعد میں کہا تھا کہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ اُن کے ساتھ کیا بیتی۔

جمعرات کے دِن لیونسن کی اڑسٹھویں سالگرہ ہے۔ پانچ برس قبل اُن کے اہل خانہ کو موصول ہونے والی تصاویر سے پتا چلا تھا کہ وہ قید میں ہیں۔ لیکن، اصل میں اُن کی صورت حال کے بارے میں کھلے عام کچھ پتا نہیں، یا یہ کہ کیا وہ ابھی زندہ ہیں۔

اس سال کے اوائل میں ایران نے زیر حراست امریکیوں کے ایک گروپ کو رہا کیا، جن میں جیسن رضائیاں، جو ’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ کے نمائندے ہیں، شامل ہیں، دھیان لیونسن کے معاملے پر مرتکز ہوا۔

لیونسن کے بیٹے، ڈینئل نے ’وائس آف امریکہ‘ کی فارسی سروس کو بتایا کہ اُن کے خاندان کے افراد سمجھتے ہیں کہ حکومتِ ایران کو پتا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

اپنے بیان میں کیری نے کہا ہے کہ ’’ہم بوب کو کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ اور ہم تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک لیونسن کا خاندان پھر سے مکمل نہیں ہوتا‘‘۔

XS
SM
MD
LG