رسائی کے لنکس

ایران جوہری معاہدہ ’صرف ایک بار آنے‘ والا موقع ہے: صدر اوباما


فائل فوٹو
فائل فوٹو

صدر اوباما نے کہا کہ اگر ان کے عہدۂ صدارت کے دوران یا ان کے کام کے نتیجے میں اسرائیل زیادہ غیر محفوظ ہو جائے تو وہ اسے اپنے عہدۂ صدرات کی ایک بنیادی ناکامی قرار دیں گے۔

امریکہ کے صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے بنیادی خدوخال سے متعلق ہونے والا سمجھوتامشرق وسطیٰ میں استحکام لانے کا ’’زندگی میں صرف ایک بار آنے‘‘ والا موقع جو (استحکام ) ان کے بقول اسرائیل اور دوسرے ملکوں کے لیے اچھا ثابت ہو گا۔

تاہم امریکی کانگرس کے کچھ ارکان اب بھی اس کے قائل نہیں ہوئے۔

ایک اہم امریکی قانون ساز ایک ایسا قانون لانا چاہتے ہیں جس کے تحت صدر اوباما پر لازم ہو گا کہ وہ حتمی معاہدے کا مسودہ بحث اور رائے شماری کے لیے اسے کانگریس میں بھیجیں ۔

موقر اخبار "دی نیویارک ٹائمز" سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ اگر ان کے عہدۂ صدارت کے دوران یا ان کے کام کے نتیجے میں اسرائیل زیادہ غیر محفوظ ہو جائے تو وہ اسے اپنے عہدۂ صدرات کی ایک بنیادی ناکامی قرار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناصرف ایک اسٹریٹیجک ناکامی بلکہ ایک اخلاقی ناکامی بھی ہو گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اسرائیل کی عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو صدر اوباما نے کہا کہ انہیں ایران کے بارے میں فکر مند ہونے کا حق حاصل ہےلیکن انہیں اس بارے میں بھی غورو فکر کرنا چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قابل نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ایسا نہ ہو سوئیٹزرلینڈ میں معاہدے کے بنیادی خدوخال پر ہونے والے سمجھوتے سے بہتر (کوئی اور طریقہ) نہیں تھا۔

بنیادی خدوخال پر سمجھوتہ حتمی معاہدے کے لیےبنیاد فراہم کرے گا جس پرجون کے اواخر تک مذاکرات کے ذریعے پہنچنا ضروری ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ "ایران (میرے دور) میں جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔" تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سفارتی کاری کے ذریعے "ایران اور امریکہ کے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے"۔

XS
SM
MD
LG