رسائی کے لنکس

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں میزائل پروگرام نظر انداز: مبصرین


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

ایران کے ساتھ ایک جامع جوہری معاہدے کی تفصیلات طے کرنے کے لیے مقرر کی گئی حتمی تاریخ میں تین ہفتے باقی ہیں، مگر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو معاہدے میں نظر انداز کرنا ایک خطرناک غفلت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات امریکی قانون سازوں کے ایک پینل نے بدھ کو کہی۔

جب ایران اور چھ عالمی طاقتوں بشمول امریکہ، فرانس، روس، چین، برطانیہ اور جرمنی نے حتمی معاہدے کے خدوخال پر سمجھوتے کا اعلان کیا، تو اس میں ایران کے میزائل پروگرام کا مسئلہ شامل نہیں تھا۔ حتمی معاہدہ طے کرنے کے لیے 30 جون کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

یو ایس نیول وار کالج کے ڈیوڈ کوپر نے ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر ذیلی کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا کہ درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری مواد کے درمیان تعلق واضح ہے۔

’’اس وقت ایران دنیا کا واحد ملک ہے جو یہ کہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے عزائم نہیں رکھتا مگر اس نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل میدان میں اتارا ہے۔‘‘

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی میں سینیئر سکالر رابرٹ جوزف نے بتایا کہ اگر ان کے بقول اس ناقص معاہدے پر اتفاق کر لیا گیا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔

’’اگر وائٹ ہاؤس اور ایرانی قیادت کی طرف سے بیان کیے گئے خطوط پر معاہدے پر اتفاق ہو گیا تو میرا خیال ہے کہ یہ 35 سال میں قومی سلامتی کے شعبے کی سب سے بڑی اسٹریٹیجک غلطی ہو گی۔‘‘

سینٹر آف اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے اینتھنی کورڈزمین نے پینل کو بتایا کہ ایران کے درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل غلطیاں کرنے کے لیے بدنام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی طویل عرصے سے انہیں اسٹریٹیجک ہتھیاروں کی بجائے بڑے پیمانے پر دہشت پھیلانے والے ہتھیار سمجھتا رہا ہے۔

مگر انہوں اور دوسرے ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روس اور شمالی کوریا کی تکنیکی مدد سے تیار کی گئی ایران کی میزائل ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے۔

فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر مائیکل فلین نے کہا کہ اگر اس معاہدے پر اس کی موجودہ شکل میں اتفاق ہو گیا، تو انہیں اس کے نتائج کے بارے میں خدشات ہیں۔

’’جب پابندیاں اٹھا لی جائیں گی تو جن بوتل سے باہر نکل آئے گا اور ہم علاقے میں ایٹمی پھیلاؤ دیکھیں گے، کیونکہ ہم اس کو بہت تنگ نظری سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘

فلین نے بیان میں کہا کہ سعودی عرف، اردن، متحدہ عرب امارات، کویت اور مصر ’’پہلے ہی روسیوں اور چینیوں سے دوسرے ممالک میں جوہری صلاحیت کی ترقی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘

پینل کی شریک چیئر پرسن رپبلکن نمائندہ ایلینا راس لہتینن نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں ’’بہت سی واضح خامیاں‘‘ موجود ہیں جس کے باعث بہت سے لوگ اسے ’’کمزور اور خطرناک‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

راس لہتینن نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ایران بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل کی ترقی پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، جنہیں صرف جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس بات کو جھٹلاتی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

’’مذاکرات کی سب سے بڑی ناکامی شاید یہ تھی کہ ان کو صرف ایران کے جوہری پروفائل تک محدود رکھا گیا ہے اور ان میں ایران کی بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر مسلسل پیش رفت کو شامل نہیں کیا گیا۔‘‘

XS
SM
MD
LG