رسائی کے لنکس

جوہری تعزیرات میں نرمی کا معاملہ، کیری ظریف متوقع ملاقات


فائل

فائل

ایرانی اہل کاروں کو شکایت ہے کہ جس سنگِ میل جوہری سمجھوتے پر جنوری میں عمل درآمد شروع ہوا، اُن کے ملک کو ’مشترکہ مربوط پلان آف ایکشن‘ کے تحت پابندیوں میں نرمی ملنی تھی، جو نہیں دی جا رہی

امریکی وزیر خارجہ جان کیری جب منگل ہی کے روز اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کریں گے، خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں تعزیرات کے حوالے سے نرمی میں کمی نہ آنے کا تاثر اور سیاسی مذاکرات کی مبینہ ناکامی کلیدی نکتے ہوں گے۔

کیری اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نیویارک میں ملاقات کریں گے، ایسے میں جب کیری اپنے دورے کا آغاز کرنے والے ہیں، جس دوران وہ مصر اور سعودی عرب جائیں گے۔

ایرانی اہل کاروں کو شکایت ہے کہ جس سنگِ میل جوہری سمجھوتے پر جنوری میں عمل درآمد شروع ہوا، اُن کے ملک کو ’مشترکہ مربوط پلان آف ایکشن‘ کے تحت پابندیوں میں نرمی ملنی تھی، جو نہیں دی جا رہی۔

ظریف نے ہفتے کے روز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فریڈریکا مغیرنی کے ہمراہ اخباری کانفرنس کی، جس میں اُنھوں نے کہا کہ ’’جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد میں رکاوٹوں کو ہٹانے کے سلسلے میں تمام ملکوں کو ضروری اقدام کرنا ہوگا‘‘۔

اُنھوں نے مزید کیا کہ ’’ہم نے امریکیوں کا رویہ دیکھ لیا۔ اِس لیے، ہم اُن پر کچھ دباؤ ڈالیں گے۔ اِسی طرح، یورپی یونین کو بھی یہی کچھ کرنا چاہیئے، تاکہ غیر امریکی بینکوں اور ایران کے درمیان تعاون کی راہ ہموار ہو‘‘۔

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا کہ جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے امریکہ اپنا عہد نبھا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایران کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی دینا، معاہدے کا جُزو نہیں تھا۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان، جان کِربی نے پیر کے روز تسلیم کیا کہ کیری اور ظریف کی منگل کی ملاقات میں توقع ہے کہ پابندیوں کا معاملہ ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔

بقول ترجمان، ’’ظاہر ہے، ہمیں اِس تشویش سے آگاہی ہے، جس کا ہم تعزیرات میں نرمی کے حوالے سے ذکر اذکار کرتے رہے ہیں، اور وزیر خارجہ کو بخوبی علم ہے کہ یہ عنوان اٹھایا جائے گا‘‘۔

مذاکرات سے قبل، کیری نے ’جے اسٹریٹ‘ پر اسرائیل نواز گروپ سے خطاب کرتے ہوئے، کیری نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ترک کرنے سے متعلق سمجھوتے کے نتیجے میں اب تک ایران کو تقریباً تین ارب ڈالر مل چکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ناقدین کے دعوے کے برعکس، یہ اعداد و شمار کم ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ سمجھوتے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتکاری کو اولیت دینا کتنا اہم ہوا کرتا ہے۔

کیری کے بقول، ’’ناقدین کی جانب سےسنگین نتائج کی پیش گوئی کے باوجود، ہم ایسے مقام پر ہیں جسے کچھ لوگ ناقابل فہم اور ناقابل قبول خیال کیا کرتے تھے‘‘۔

XS
SM
MD
LG