رسائی کے لنکس

امریکہ کا ایران کےخلاف تعزیرات نرم کرنے پر غور: اخباری رپورٹ


فائل

فائل

تاہم، وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان، برنادیت میھان نے کہا ہے کہ مخصوص قسم کی تعزیرات میں نرمی کی بات ’قبل از وقت اور قیاس آرائی‘ پر مبنی ہوگی

اخباری اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ ایران کے بیرون ملک منجمد کچھ رقوم مرحلہ وار جاری کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ اِن پابندیوں میں کمی لائی جاسکے۔ یہ تعزیرات ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے مقصد سے لاگو کی گئی تھیں۔

اِس تجویز پر عمل درآمد کے ذریعے، ایران کے اثاثوں پر قسط وار طور پر پابندی میں نرمی لائی جائے گی۔

انتظامیہ کے نامعلوم اعلیٰ اہل کاروں کے حوالے سے جاری ہونے والی اِن رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ایران کےمتنازع جوہری پروگرام پر اس ہفتے جنیوا میں ہونے والی گفتگو کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے کہا کہ ایران کی طرف سے اختیار کی گئی ’سنجیدگی کی سطح اور بات چیت کی ہیئت‘ کا انداز کبھی پہلے نظر نہیں آیا۔

تاہم، وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان، برنادیت میھان نے کہا ہے کہ مخصوص قسم کی تعزیرات میں نرمی کی بات ’قبل از وقت اور قیاس آرائی‘ پر مبنی ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ ایران کو اس بات سے اتفاق کرنا ہوگا، جو، اُن کے بقول، اس سے پہلے کہ امریکہ اِن تعزیرات میں نرمی کی بات کو سنجیدگی سے زیرِ غور لائے، ضروری ہوگا کہ ’بامعنی، شفاف اور قابلِ تصدیق‘ اقدامات سامنے آئیں۔

ایران اس بات پر مصر ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اس بات کو ثبوت پیش کرے کہ اُس کا جوہری پروگرام ہتھیار تیار کرنے کے عزائم پر مبنی نہیں۔

جنیوا مذاکرات ایران اور ’پی فائیو پلس ون‘ نامی گروپ کے درمیان ہوئے، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ جرمنی شامل ہے۔ گروپ کی اگلی نشست تین ہفتے بعد ایران میں ہوگی۔

’پی فائیو پلس ون‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران یورینئم کی افزودگی معطل کرے یا افزودہ یورینیئم کے ذخیروں کو بیرون ملک روانہ کرے۔ گروپ اس بات کا بھی خواہاں ہے کہ ایران تصدیق کے جامع ضابطوں کے نظام کی پاسداری کرے، جن میں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی طرف سے غیر اعلانیہ چھان بین شامل ہے۔

جنیوا مذکرات جون میں معتدل خیالات کے حامل حسن روحانی کے ایران کے نئے صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے۔

اُنھوں نے اِس بات کا عہد کیا کہ وہ ایران کے خلاف عائد معاشی تعزیرات میں کمی لانے کی غرض سے سفارتی کوششیں کریں گے۔ تاہم، ’پی فائیو پلس ون‘ کے اہل کاروں نے کہا ہے کہ ایران اپنے خلوص نیت کا ٹھوس عملی ثبوت پیش کرے۔

دریں اثنا، اسرائیل نے ایران پر دباؤ میں کمی لانے کے کسی اقدام کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ ایک ’تاریخی غلطی‘ ہوگی۔
XS
SM
MD
LG