رسائی کے لنکس

امریکی محکمہ ِ خزانہ نے یہ پابندی ’اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ‘ اور اس کے ڈائریکٹرعزت اللہ زرغامی پر لگائی ہے۔

امریکہ نے بدھ کے روز ایران کے ان براڈکاسٹرز پر پابندی عائد کی ہے جو ایرانی حکومت کے زیر ِ سرپرستی کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران پر متنازعہ نیوکلیر پروگرام ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

امریکی محکمہ ِ خزانہ نے یہ اقدام ’اسلامی جمہوریہ ایران براڈ کاسٹنگ‘ اور اس کے ڈائریکٹر عزت اللہ زرغامی کے خلاف اٹھایا۔ ان پابندیوں کے بعد متاثرہ ادارے اور افراد کی امریکی مالیاتی کھاتوں تک رسائی ممکن نہیں رہے گی۔

ان پابندیوں کا اطلاق ایرانی سائبر پولیس اور دیگر دو محکموں پر بھی ہوگا۔ جس میں کمیونیکشنز ریگولیٹری اتھارٹی اور ایران الیکٹرانکس انڈسٹریز شامل ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جن صحافیوں پر پابندیاں نافذ کی گئی ہیں وہ خبروں میں سنسرشپ اور رکاوٹ ڈالنے یا پھر سوشل میڈیا کو متحرک سیاسی کارکنوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کرنے کے مرتکب تھے۔ یہ براڈ کاسٹرز ایران میں حکومت مخالف تحریک پر حکومتی سنسر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ اور ان پر پابندیاں بھی اسی ضمن میں لگائی گئی ہیں۔

امریکی قانون کے تحت امریکی وزات ِ خزانہ ایران میں موجود ایسے کسی بھی فرد یا ادارے پر پابندی عائد کرنے کی مجاز ہے جو ان کے نزدیک ایران میں عوام کی درست معلومات تک رسائی میں رخنہ ڈالنے کا سبب ہیں۔

امریکی محکمہ ِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران میں 2009ء کے صدارتی انتخابات اور وہاں عرب بہار تحریکوں کے اثرات کی وجہ سے اٹھنے والی شورش کے نتیجے میں ایران نے بہت سے عالمی نشریاتی اداروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ان اداروں میں بی بی سی اور وائس آف امریکہ بھی شامل تھے۔

اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر تب تک پابندیاں عائد کرکے دباؤ بڑھاتا رہے گا جب تک کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر عمل درآمد اور انسانی حقوق کی پامالی بند نہیں کرتا۔
XS
SM
MD
LG