رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ ایران اور حزب اللہ کی سرگرمیوں کا نوٹس لے، امریکہ


اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکی ہیلے سلامتی کونسل کے اجلاس میں (فائل فوٹو)

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے 90 روزہ جائزے میں یہ تعین کرے گی کہ آیا ایران پر عائد پابندیاں معطل کرنا امریکی سلامتی کے بہترین مفاد میں ہے یا نہیں۔

اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نے ایران اور اس کے پراکسی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کو موضوع بناتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ اقوام متحدہ کو اس بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف اقدامات کرنے چاہییں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں زیادہ تر توجہ مشرق وسطیٰ اور بالخصوص اسرائیل فلسطین مسائل پر مرکوز رہی۔ اجلاس کے دوران امریکی سفیر نکی ہیلے نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ان معاملات پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو خطے کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا آغاز سب سے بڑے مجرم ایران اور اس کی شراکت دار ملیشیا حزب اللہ سے کرنا چاہیے۔ ان کا اشارہ لبنان کے شیعہ عسکریت پسند گروپ کی جانب تھا جسے امریکہ ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں نے ٕخطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گردی اور فوجی کارروائیوں کی سازش تیار کی ہے۔

اس وقت وہ بشارالاسد کی بربریت کے ساتھ کھڑے ہیں اوراس کی فوجوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ وہ شہریوں کی ہلاکتوں میں ہزاروں کا اضافہ کررہے ہیں اور لاکھوں افراد کو پناہ گزین بننے کے کرب میں مبتلا کررہے ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ وہ عراق میں بے رحم جنگجوؤں کو تربیت دے رہے ہیں اور یمن میں ہوثیوں کو مسلح کررہے ہیں۔

خاتون سفارت کار کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل اس بڑھتے ہوئے خطرے پر بہت کم توجہ دے رہی ہے لیکن امریکہ ایسا نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران اور حزب اللہ سے بات کریں گے اور ہم ان کی غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف اقدامات کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے 90 روزہ جائزے میں یہ تعین کرے گی کہ آیا ایران پر عائد پابندیاں معطل کرنا امریکی سلامتی کے بہترین مفاد میں ہے یا نہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ہیلے نے سلامتی کونسل کے سفارت کاروں کو بتایا کہ امریکہ ایران کے اس رویے پر جس کا تعلق جوہری عدم پھیلاؤ سے ہے، اپنا رد عمل ظاہر کرنے کے لیے انتظار نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران بدستور دهشت گرد کی سرپرستی کرنے والی ایک ریاست ہے اور ہم دہشت گردی اور خطے کو عدم استحكام میں مبتلا کرنے سے متعلق اس کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اپنی تمام پابندیاں نافذ کریں گے۔

اس سال فروری میں ٹرمپ انتظامیہ نے 25 افراد اور اداروں پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی مدد کے إلزام میں پابندیاں لگائی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG