رسائی کے لنکس

عراقی پناہ گزینوں کو نکالنے کی شاید ضرورت نا پڑے: امریکہ


عراقی کرد اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے عسکریت پسندوں کے حملوں سے پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب سنجار کی پہاڑی میں پناہ کے رکھی تھی۔

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی عراق کے پہاڑ میں پناہ لیے افراد کی تعداد اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد "زیادہ امکان ہے" کہ ان لوگوں کو وہاں سے نا نکالا جائے۔

وزیردفاع چک ہیگل نے بدھ کو رات گئے صحافیوں کو امریکہ کی طرف سے داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں اور جبل سنجار میں صورت حال بہتر کرنے کے لیے امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

’’وہاں نا صرف کچھ ہی افراد ہیں بلکہ وہ قدرے بہتر حالت میں ہیں اور خوراک و پانی کی فراہمی سے متعلق ہماری کوششوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ وہ آئی ایس آئی ایل کے خلاف ہونے والی فضائی کارروائیوں سے بھی محفوظ بیٹھے ہیں تو پس یہ اچھی خبر ہے۔‘‘

عراقی کرد اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے عسکریت پسندوں کے حملوں سے پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب سنجار کی پہاڑی میں پناہ لے رکھی تھی۔

امریکہ نے رواں ہفتے وہاں امداد سے متعلق صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے فوجی مشیر بھیجے تھے۔ ہیگل کا کہنا تھا کہ مثبت جائزہ رپورٹ آنے کے باوجود امریکہ کی عراق میں کوششیں ’’مکمل نہیں‘‘ ہوئیں۔

صدر براک اوباما نے عراق میں لڑائی کے لیے دوبارہ اپنی فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔

دریں اثنا عراقی وزیراعظم نوری المالکی اپنے عہدے سے ہٹنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی مزاحمت کرتے آ رہے ہیں۔ بدھ کو ان کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے جب تک عدالت صدر فواد معصوم کی طرف سے وزیر اعظم نامزد کرنے پر فیصلہ نہیں سناتی۔

XS
SM
MD
LG