رسائی کے لنکس

امریکی فوجوں کا انخلا اور عراقی فورسز کی تربیت

  • لوئس رامیرز

امریکی فوجوں کا انخلا اور عراقی فورسز کی تربیت

امریکی فوجوں کا انخلا اور عراقی فورسز کی تربیت

امریکہ کے فوجی عہدے دار کہتے ہیں کہ عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کام کام جاری ہے، اور اس کے ساتھ ہی واشنگٹن اور بغداد اس مخمصے میں گرفتار ہیں کہ کیا دسمبر کی ڈیڈ لائن کے بعد ایک چھوٹی سی امریکی فورس عراقیوں کی تربیت کے لیئے عراق میں رہنی چاہیئے یا نہیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ عراقی سیکورٹی فورسز کی تربیت کے لیئے کچھ فوجی عراق میں چھوڑنے پر غور کرے گا بشرطیکہ عراق اس کی درخواست کرے۔ انہیں متضاد اورایک دوسرے سے متصادم مطالبا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوامی مطالبات تو یہ ہیں کہ غیر ملکی فوجیں ان کے ملک سے چلی جائیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کو یہ ڈر بھی ہے کہ کسی بیرونی طاقت کے بغیر، ان کا ملک فرقہ وارانہ تشدد کی اور زیادہ گہری دلدل میں پھنس جائے گا اور ہمسایہ ملک ایران کی مداخلت کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

اس ہفتے نیوز رپورٹوں میں امریکی فوجی ذرائع سے جن کی شناخت نہیں کی گئی، یہ بیان منسوب کیا گیا کہ پینٹا گان عراق میں کئی ہزار فوجی چھوڑنے کے حق میں ہے ۔

محکمۂ دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے جمعرات کے روز ان مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جو ان کے بقول امریکہ اور عرا ق کے درمیان جاری ہیں۔’’2011 کے بعد عراق میں امریکہ کی موجودگی کے بارے میں کسی قسم کے مطلق کوئی فیصلے نہیں کیے گئے ہیں۔ عراقی حکومت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ 2012 میں امریکی فوجوں کی صحیح تعداد کا تعین کر سکتا ہے، وہ محض قیاس آرائی سے کام لے رہا ہے۔‘‘

عراق میں تقریباً 45,000 امریکی فوجی موجود ہیں اور صدر اوبامانے وعدہ کیا ہے کہ وہ عراقی حکومت کے ساتھ 2008 کے سیکورٹی سمجھوتے کے تحت، 31 دسمبر تک ان سب کو واپس بلا لیں گے ۔

امریکی بحریہ کے کیپٹین جان کربے کہتے ہیں کہ فوجوں کی واپسی منصوبے کے مطابق جاری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکی فورسز کے عراق میں رہنے کی معقول وجہ موجود ہے ۔’’ہم ایک عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ عراقی فوج کی سیکورٹی کی صلاحیتوں میں کچھ نقائص موجود ہیں جنہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی مدد سے دور کر سکتے ہیں۔ ہم اس انتظارمیں ہیں کہ وہ واپس آئیں اور ہمیں بتائیں کہ ان کے خیال میں وہ نقائص کیا ہیں اور انہیں ہم سے کن چیزوں کی ضرورت ہو گی۔‘‘

تین سال پہلے، امریکہ اور عراقی لیڈروں نے اس سال امریکی فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا تھا۔ ا س کی بنیاد یہ توقع تھی کہ عراقی حکومت اپنی حکومت کرنے کی صلاحیتوں اور دفاعی استعداد میں پیش رفت کر چکی ہوگی۔

واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیہ کار اینتھونی کورڈزمین کہتے ہیں کہ عراق میں منصوبے کے مطابق پیش رفت نہیں ہوئی اور اس کی ایک وجہ 2008 کا بجٹ کا بحران تھا۔ ’’دوسری باتوں کے علاوہ،انہیں فورسز کی تعداد منجمد کرنی پڑی ۔ بہت سے پروگراموں میں عملے میں تخفیف ہوئی جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ۔ اس میں مزید پیچیدگی انتخابات کے عمل سے پیدا ہوئی جس میں اصل انتخاب سے پہلے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ اتنا وقت گذرنے کے بعد بھی، آج تک صحیح معنوں میں کوئی وزیرِ داخلہ، وزِیر دفاع یا نیشنل سیکورٹی اڈوائزر نہیں ہے۔‘‘

عراق میں سینیئر امریکی کمانڈر نے شروع میں تجویز کیا کہ ملک میں 14,000 سے 18,000 تک فوجی رکھے جائیں۔ اخبار نیو یارک ٹائمز نے اس ہفتے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کی سفارش ہے کہ عراق میں 3,000 سے 4,000 فوجی رکھے جائیں۔

اینتھونی کورڈزمین کہتے ہیں کہ عراق میں ابھی جو کام کرنا باقی ہے، اس کی روشنی میں یہ تعداد بہت کم معلوم ہوتی ہے۔’’اتنے بڑے ملک کے لیے ، جہاں ابھی بہت سا کام باقی ہے اور جس کی سیکورٹی کی ضرورتیں ابھی بہت زیادہ ہیں، تین سے چار ہزار سپاہیوں کی تعداد بہت کم ہے ۔اور اس فورس کے لیے خطرات بہت زیادہ ہوں گے جب کہ نسبتاً بڑی فورس کو ٹریننگ اور مشورے کی سطح کو دیکھتے ہوئے ، خطرہ در پیش نہیں ہوگا۔‘‘

کوئی فیصلہ کرتے ہوئے، عراق کے لیڈروں کو ملک میں بہت کم امریکی فوجیوں کو رکھنے کے خطرات کو سامنے رکھنا ہوگا اور اس کے مقابلے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ ملک کی آبادی ،کتنے امریکی فوجی عراق میں رکھنے کو تیار ہے ۔

XS
SM
MD
LG