رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ دیرپہ شکست کے لیے طویل مدت اور مشکل کام درکار ہے۔ تاہم، گروپ نے کہا ہے کہ داعش کو قابل ذکر درجے تک کمزور کیا جاچکا ہے‘‘۔ رپورٹ میں مزید کیا گیا ہے کہ ’’وہ تیزی سے اپنے رہنما کھو رہی ہے، جب کہ اُس کے لڑاکوں کی ایک بڑی تعداد ختم ہوچکی ہے‘‘

داعش ’’واضح طور پر جان بچانے اور پسپائی اختیار کرنے کی جانب گامزن ہے‘‘، لیکن، اب بھی خطرے کا باعث ہے۔ یہ بات امریکہ اور داعش کے انسداد سے متعلق اتحاد کے دو درجن کے قریب دیگر ارکان نے کہی ہے، جن کا بدھ کو کویت میں اجلاس ہوا۔

ایک مشترکہ بیان میں، داعش کے شدت پسند گروپ کے انسداد کے لیے کارفرما چھوٹے اتحاد نے انتہاپسند گروپ کی جانب سے بیلجئم اور تیونس میں حالیہ حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو شدت پسند گروپ کے خطرناک عزائم کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

گروپ کے بقول، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی دیرپہ شکست کے لیے طویل مدت اور مشکل کام درکار ہے‘‘۔

تاہم، گروپ نے کہا ہے کہ داعش کو قابل ذکر درجے تک کمزور کیا جاچکا ہے۔

بقول اُن کے، ’’وہ تیزی سے اپنے رہنما کھو رہی ہے، جب کہ اُس کے لڑاکوں کی ایک بڑی تعداد ختم ہوچکی ہے‘‘۔

ادارے کے امریکی وفد کی قیادت داعش کے انسداد کے عالمی اتحاد کے خصوصی ایلچی، بریٹ میک گرک کررہے تھے۔ کویت نیوز ایجنسی نے اتحاد کو خبر دی ہے کہ اتحاد کی جانب سے ہونے والی فضائی کارروائی کے نتیجے میں داعش کے وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں جب کہ ’’اُس کی تیل کی پیداوار میں کم از کم 30 فی صد کمی واقع ہوئی ہے‘‘۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے کہا ہے کہ گروپ نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف جاری کارروائی کے تمام پہلوؤں پر غور کیا۔

حالیہ ہفتوں کے دوران، عراقی افواج نے داعش کے زیر تسلط باقی ماندہ علاقے میں پیش رفت حاصل کی ہے۔ لیکن، عالمی طاقتوں نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ کہ بغداد میں سیاسی تناؤ کے نتیجے میں اس پیش رفت کو دھچکہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پیر کے روز احتجاج کرنے والے ہزاروں عراقی سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ إصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے، ایسے میں جب منقسم پارلیمان میں کابینہ کی تنظیم نو پر مباحثہ جاری ہے۔

اپنے بیان میں، گروپ نے کہا ہے کہ اصلاحات کے معاملے کو جاری رکھنے کے عزم کے اظہار اور سب کی شراکت سے اور قومی مفاہمت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مربوط مکالمے کو جاری رکھا جائے۔
شام میں، کمزور جنگ بندی میکں بکھرنے کے آثار نمایاں ہیں، کسی حد تک اس لیے کہ روسی حمایت یافتہ شام کی حکومت باغیوں کو ہدف بنانے کے لیے بم حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

گروپ نے کہا ہے کہ ’’ہم بلا امتیاز بم باری کے خاتمے، اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کو جان بوجھ کر روکنے کے حربوں کااستعمال بند کرنے کا مطالبہ کیا، جو شام کی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے‘‘۔

گروپ کی پچھلی ملاقات فروری میں روم میں ہوئی تھی، جب وزارتی سطح کا اجلاس ہوا تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری شریک ہوئے تھے۔ اس کا اگلہ اجلاس جولائی میں واشنگٹن میں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG