رسائی کے لنکس

امریکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے غیر اہم ہوتا جارہا ہے اور اب کل عالمی بیرونی سرمایہ کاری کی وصولی میں اس کا حصہ سکڑ کر 17 فی صد رہ گیا ہے

امریکی حکومت نے غیر ملکی تاجروں اور کمپنیوں کو مشکلات سے دوچار امریکی معیشت میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے کی غرض سے نئی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر براک اوباما کی جناب سے اعلان کیے جانے والے نئے منصوبے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو امریکہ میں ان شعبوں اور صنعتوں میں سرمایہ کاری پر قائل کرنا ہے جن میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوسکیں۔

اس سے قبل تک غیر ملکی تاجروں اور کمپنیوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے کا کام 50 امریکی ریاستوں کے گورنر اور بڑے شہروں کے میئرز کے سپرد رہا ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے کے تحت ایسی سرمایہ کاری امریکہ لائی جائے گی جس سے امریکی شہریوں کے لیے نئی ملازمتیں پیدا کی جاسکیں ۔ حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے دیگر ملکوں میں قائم امریکی سفارت خانوں کو استعمال کیا جائے گا۔

نئے منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر بیرونی سرمایہ کاروں کو ان 32 اہم منڈیوں میں اپنا سرمایہ لگانے پر راغب کیا جائے گا جہاں پہلے ہی سے امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی تاجروں اور کمپنیوں کا 90 فی صد سرمایہ لگا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت ہونے کے باوجود امریکی معیشت کا حال پتلا ہے اور امریکی معیشت کی شرحِ نمو دو فی صد سالانہ سے تھوڑی ہی زیادہ ہے جو دیگر بڑی معیشتوں سے کہیں کم ہے۔

بعض ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے حالیہ 'شٹ ڈاؤن' کے نتیجے میں بھی امریکی معیشت کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور معاشی سرگرمیوں کو ایک ایسے وقت میں دھچکا پہنچا ہے جب امریکی معیشت 2009ء کے عالمی معاشی بحران کے اثرات سے نکل کر دوبارہ پٹری پر آنے لگی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیدار اپنے اپنے طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو امریکہ میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ لیکن نئے منصوبے کے تحت اس طرح کی تمام کوششوں کو باہم مربوط کیا جائے گا اور اس میں صدرِ امریکہ سے لے کر ہر سطح کے عہدیداران شامل ہوں گے۔

نئی مہم کے تحت سرمایہ کاروں کا پہلا کنونشن جمعرات اور جمعے کو واشنگٹن میں منعقد کیا جارہا ہے جس میں 60 ممالک سے 1200 سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

اس 'انویسٹمنٹ سمٹ' سے صدر اوباما سمیت ان کے تمام اہم معاشی مشیر اور وزرا خطاب کریں گے۔

سنہ 2000 تک دنیا بھر میں ہونے والی کل بیرونی سرمایہ کاری میں سے 37 فی صد تک امریکہ میں ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ امریکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے غیر اہم ہوتا چلا گیا اور اب کل بیرونی سرمایہ کاری کی وصولی میں اس کا حصہ سکڑ کر 17 فی صد رہ گیا ہے جس میں بتدریج کمی آرہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بیرونی کمپنیوں نے امریکہ میں 166 ارب ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری کی جو 2011ء کے مقابلے میں 28 فی صد کم تھی۔
XS
SM
MD
LG