رسائی کے لنکس

شام خانہ جنگی، متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالر امریکی امداد


کیری کی صدر اردگان سے ملاقات

کیری کی صدر اردگان سے ملاقات

شام کے 30 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں نے حالات سے مجبور ہوکر ہمسایہ ملکوں میں پناہ لی ہے۔ اس امداد میں سے تقریباً 25 کروڑ ڈالر کا سامان اِن متاثرین پر خرچ ہوگا؛ جب کہ بقیہ زیادہ تر رقم شام کے اندر نقل مکانی کرنے والے شہریوں پر خرچ ہوگی

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام کی خانہ جنگی کے متاثرین کے لیے اضافی امریکی امداد کے طور پر تقریباً 50 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

کیری نے یہ اعلان جمعے کے دِن ترکی میں کیا جہاں کے دورے کا مقصد شام اور عراق میں دولت الاسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے بین الاقوامی حمایت کا حصول ہے۔

شام کے 30 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں نے حالات سے مجبور ہوکر ہمسایہ ملکوں میں پناہ لی ہے۔ اس امداد میں سے تقریباً 25 کروڑ ڈالر کا سامان اِن متاثرین پر خرچ ہوگا؛ جب کہ بقیہ زیادہ تر رقم شام کے اندر نقل مکانی کرنے والے شہریوں پر خرچ ہوگی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے شام کی نصف آبادی خانہ جنگی سے متاثر ہوکر بھاگ کھڑی ہوئی ہے، جب کہ دولت الاسلامیہ کے شدت پسندوں کی طرف سے علاقہ ہتھیانے کے نتیجے میں صورتِ حال مزید بگڑ گئی ہے۔

اِس وقت، کیری ایک ہفتے کے دورے پر ہیں۔ اُن کا مقصد انتہا پسند گروپ کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک عالمی اتحاد تشکیل دینا ہے، جس نے سر قلم کرنے کی وارداتیں کرکے اور فرقہ وارانہ قتل عام میں ملوث ہوکر دنیا بھر کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔

کیری کی طرف سے جمعرات کو سعودی عرب میں بات چیت کے دوران، ترکی نے امریکی قیادت میں اُس مربوط منصوبے کی توثیق کرنے سے انکار کیا جس کا مقصد سنی شدت پسند گروپ کو شکست دینا ہے۔

عرب ملکوں نے اِس اتحاد میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ وہ دولت الاسلامیہ کو تباہ کرنے میں امریکہ کی مدد کریں گے، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں، جس میں عراق اور شام بھی شامل ہیں۔

ایک بیان میں، اتحاد نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کی آمد و رفت بند کردے گا، گروپ کے فنڈز کی ترسیل روکی جائے گی اور تشدد کیے جانے والوں کی امداد کو یقینی بنایا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں کہیں بھی ممکن ہوگا، وہ جاری کام اور مربوط فوجی مہم کے سلسلے میں ہر ممکن اعانت کریں گے۔

ترکی کی شام کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ ترکی اتحاد میں متحرک کردار ادا کرنے سے گریزاں ہے۔ دولت الاسلامیہ کے جنگجوؤں نے اِس وقت 45 ترکوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، جس میں سفارت کار اور اُن کے اہل خانہ بھی شامل ہیں، جنھیں جون میں ایک قونصل خانے پر حملہ کرکے اغوا کیا گیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ اُن کے اندازے سے دولت الاسلامیہ کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ گروپ کے لڑاکوں کی تعداد 20000سے 31000ہے، جو عراق اور شام کے میدانِ جنگ میں موجود ہیں۔ یہ اُس اندازے سے کہیں زیادہ ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ اُن کی تعداد 10000 کے لگ بھگ ہے۔

XS
SM
MD
LG