رسائی کے لنکس

’اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن چاہتا ہے‘

  • لوئس رامیرز

صدر اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو جمعےکے روز واشنگٹن پہنچنے والے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد عرب دنیا میں سیاسی تبدیلیوں اور فلسطینیوں کے طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤکے پیش نظر، اسرائیل کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

اسرائیلی لیڈر کو صدر براک اوباما کو یہ بتانے کا موقع ملے گا کہ وہ عرب دنیا میں سیاسی تبدیلیوں کے اثرات اور فلسطینیوں کے ساتھ امن کے لیے داخلی اور خارجی دباؤ سے کس طرح نمٹیں گے ۔اسرائیلی عہدے دار کہتے ہیں کہ اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حالیہ شورش کے نتیجے میں عرب دنیا میں کیا تبدیلیاں آئیں گی، لیکن انہیں تشویش ہے کہ جن حکومتوں کا تختہ الٹا گیا ہے، ان کی جگہ آنے والی حکومتیں زیادہ اسرائیل مخالف ہوں گی۔

پیرکے روز اسرائیلی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ اس عبوری مدت میں اسرائیل کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مصر، شام اور لبنان میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اسرائیل اس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اتوار کے روز اسرائیل کی سرحد پر ہزاروں فلسطینیوں کا مظاہرہ در اصل اسرائیل کے علاقے پر حملہ اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔

فلسطینی علاقوں کے ساتھ اسرائیل کی سرحدوں اور چیک پوائنٹس پر ہزاروں فلسطینی مظاہرین نے ہلہ بول دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ عرب دنیا کا موسمِ بہار اسرائیل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ۔مظاہرین کو منظم کرنے والوں نے احتجاجیوں کو مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، لبنان اور شام سے بلانے کے لیے فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ فلسطینی پناہ گزیں ہیں اور اپنے آبائی گھروں کو، جو اب اسرائیل کا حصہ ہیں، واپس جانے کے خواہشمند ہیں۔

مسٹر نیتن یاہو کہتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن چاہتا ہے اور گذشتہ پیر کو انھوں نے اپنی شرائط کی فہرست بیان کی۔ اس فہرست سے مطلق یہ اشارہ نہیں ملا کہ وہ واشنگٹن کے دورے سے پہلے اپنی پالیسی میں کسی تبدیلی یا کوئی رعایت دینے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیلی لیڈر نے کہا کہ فلسطینیوں کو اسرائیل کو یہودی مملکت کی حیثیت سے تسلیم کرنا چاہیے ، یروشلم کو اسرائیل کی عملداری میں غیر منقسم حالت میں قبول کرنا چاہیئے، اور یہ بات تسلیم کرنی چاہیئے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کو فوج رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انھوں نے اسرائیل کے اندر پناہ گزینوں کی واپسی کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ اس طرح یہودی مملکت کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ مسٹرنیتن یاہو نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن وہ اسرائیلی مملکت کی جگہ فلسطینی مملکت کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

اسرائیل کے لیڈروں میں فتح اور حماس کے درمیان مصالحت کے سمجھوتے سے بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔اسرائیل حماس سمیت ایسی کسی فلسطینی قیادت سے معاملہ کرنا نہیں چاہتا جسے امریکی حکومت دہشت گرد تنظیم کہتی ہے، اور جس کے منشور میں یہودی مملکت کی تباہی کے لیے کہا گیا ہے ۔ فلسطینی عہدے دار بھی مسٹر نیتن یاہو کے دورے کے زمانے میں واشنگٹن میں ہوں گے اور وہ مصالحتی سمجھوتے کے حق میں راہ ہموار کریں گے ۔

نبیل ساتھ ایک اعلیٰ فلسطینی عہدے دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’کسی بھی چیز کے لیے اتحاد پہلی شرط ہے ۔ ہم کسی ایسے سمجھوتے پر کیسے دستخط کر سکتےہیں جس پر عمل در آمد کی ضمانت صرف مغربی کنارے کے لیے ہو۔ یہ احمقانہ بات ہوگی۔ امن کے لیے اتحاد بنیادی شرط ہے۔‘‘

فلسطینی ستمبر کی تیاری کر رہے ہیں جب وہ اپنی مملکت کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت کے خواہاں ہوں گے۔ اس دوران، اسرائیل کوشش کر رہا ہے کہ حتمی امن سمجھوتے سے پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی حمایت کو روکا جائے۔ ملک کے اندر، مسٹر نیتن یاہو پر ان کے سیاسی مخالفین کی طرف سے دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ امن کے لیے کوئی تجویز پیش کریں۔Nachman Shai اعتدال پسند کادیمہ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور پارلیمینٹ کے رکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اپنا ایک امن منصوبہ، ایک سیاسی پروگرام پیش کرنا چاہیئے ۔ انہیں پہلے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو اور پھر ساری دنیا کو قائل کرنا چاہیئے کہ اسرائیل امن چاہتا ہے اور یہ اس منصوبے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ ہفتے کے آخر میں جب وہ صدر اوباما سے ملیں تو یہ منصوبہ پیش کریں۔‘‘

اوباما انتظامیہ کے دور میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ رہےہیں کیوں کہ نیتن یاہو حکومت نے واائٹ ہاؤس کے اس دباؤ کی مزاحمت کی ہے کہ مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر روک دی جائے ۔ اب جب کہ علاقے کے حالات زیادہ غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں، بہت سے اسرائیلی بغور اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مسٹر نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے بڑ ے اتحادی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG