رسائی کے لنکس

یہودی لڑکی کے قتل کی امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مذمت


قتل کی گئی بچی کے رشتے دار

قتل کی گئی بچی کے رشتے دار

حالیل مغربی کنارے میں یہودی آبادی قریۃ الربع کی رہائشی تھیں۔ یہ علاقہ فلسطینی شہر الخلیل (ہیبرون) کے قریب واقع ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایک فلسطینی کی طرف سے ایک 13 سالہ لڑکی کو اس کے گھر میں گھس کر ہلاک کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ واقعہ یہودی آبادی میں پیش آیا جہاں حالیل یافا اریئل اپنے بستر پر سو رہی تھی کہ ایک فلسطینی نوجوان نے چھرے کے وار کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ حملہ آور سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے مارا گیا۔

زخمی لڑکی کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔ حالیل امریکہ اور اسرائیل کی دہری شہریت رکھتی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے سوتی ہوئی لڑکی کا قتل "اس انسانیت سوز خونریز دہشت گردی کی طرف اشارہ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔"

حالیل کے خون آلود بستر اور کمرے میں ایک کرسی پر رکھے ٹیڈی بیئر کی تصاویر دکھاتے ہوئے نیتن یاہو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے وہ اس واقعے کی اسی طرح مذمت کرے جس طرح اس نے انقرہ، اورلینڈو، برسلز یا کہیں اور ہونے والے دہشت گرد واقعات کی۔

امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو "بے ضمیر" قرار دیا۔

حالیل مغربی کنارے میں یہودی آبادی قریۃ الربع کی رہائشی تھیں۔ یہ علاقہ فلسطینی شہر الخلیل (ہیبرون) کے قریب واقع ہے۔

اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا تھا کہ حملہ آور یہودی آبادی کے گرد لگی باڑ کو پار کرنے میں کامیاب ہوا لیکن انھیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ حالیل کے گھر میں کیسے گھسا۔

اسرائیلی حکام نے اس واقعے کے بعد حملہ آور کے گاؤں کو سیل کر دیا ہے اور اس علاقے کے لوگوں کے کام کرنے کے اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں۔

تاحال فلسطینی رہنماؤں کی طرف سے قتل کے اس واقعے پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG