رسائی کے لنکس

قیدیوں کی رہائی کے مشرق وسطی کی صورتحال پر اثرات

  • میرٹتھ بیول

قیدیوں کی رہائی کے مشرق وسطی کی صورتحال پر اثرات

قیدیوں کی رہائی کے مشرق وسطی کی صورتحال پر اثرات

اسرائیل کے ایک قیدی کے ساتھ تبادلے کے معاہدے کے تحت ساڑھے چار سو سے زائد فلسطینی قیدی رہائی کے بعد اپنے میزبان ملکوں میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں ۔شام کی سرکاری ٹی وی کے مطابق 16 فلسطینی جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں ، رہائی کے بعد گزشتہ روز دمشق پہنچے ،جبکہ 11 اس سے پہلے دمشق پہنچے تھے ۔ آزاد کئے گئے ساڑھے چار سو سے زائد فلسطینی قیدیوں میں سے 40 کو اسرائیل اپنے لئے سیکیورٹی رسک سمجھتا ہے اور ا س لئے انہیں فلسطینی علاقے سے باہر نکل جانے کو کہا گیا ہے ۔ جبکہ آزاد کئے گئے دیگر چار سو فلسطینیوں کو غزہ اور مغربی کنارے واپسی کی اجازت دی گئی ہے ۔

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر آزاد کئے گئے کسی فلسطینی نے دوبارہ اسرائیل کے خلاف کسی پر تشدد کارروائی میں حصہ لیا تو ، انہیں سزا ملے گی ۔ واشنگٹن کےسینٹر فار نئیر ایسٹ پالیسی سے منسلک مائیکل سنگھ کہتے ہیں کہ امریکہ کو بھی اسی بات پر تشویش ہے ۔ ان کا کہناہے کہ آزاد کئے گئے ان فلسطینیوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں ، اس لئےان کی آزادی خطے کی سیکیورٹی کے لئے مسائل پیدا کر سکتی ہے ۔

قیدیوں کا یہ تبادلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قیام امن کے لئے کی جانے والی سالہا سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے اس تبادلے سے غزہ میں حماس اور مغربی کنارے میں فلسطینی انتظامیہ کے درمیان تعلق کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے ۔ اور فلسطینی صدر محمود عباس کواسرائیل سے مذاکرات میں کئی برسوں کی ناکامی کی وجہ سے سیاسی طور پرنقصان ہو سکتا ہے ۔ جبکہ حماس کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے ، جس نے مصر کے تعاون سے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتہ کیا ۔

مشرق وسطی کے امور کے تجزیہ کار جوناتھن سپئیر کہتے ہیں کہ حماس کو اس وقت کسی بھی قسم کی سیاسی کامیابی کی فوری ضرورت ہے ۔ ایک طرف تو عرب ملکوں میں جمہوری تبدیلی کی لہر سے اور دوسری طرف فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں الگ فلسطینی ریاست کی منظوری کے مطالبے نے ان میں تنہا اور نظر انداز ہونے کا احساس پیدا کیا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب دنیا میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیاں بھی اسرائیل کے لئے تشویش کا باعث ہیں ۔ اسرائیلی سیکیورٹی تجزیہ کار ڈینٹیئل شوفٹن کا کہناہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آُپ جب ایران ، ترکی ، مصر اور امریکہ کو دیکھتے ہیں ، تو آپ کو ایسی تبدیلیاں نظر آتی ہیں ، جن سے اسرائیل کے لئے خطے کی صورتحال زیادہ خطرناک اور غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے ۔

اس معاہدے کے تحت جو اسرائیلی فوجی کی رہائی کا سبب بنا ، اگلے دو مہینوں میں ساڑھے پانچ سو فلسطینی مزید رہا کئے جائیں گے ۔

XS
SM
MD
LG