رسائی کے لنکس

امریکہ اور اسرائیل کے مابین اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی قانون سازوں نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کو میزائل دفاعی پروگرام کے لیے 60 کروڑ ڈالر کے صوابدیدی فنڈز دیے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے سلامتی کے ایک دس سالہ معاہدے پر بدھ کو دستخط ہونے جا رہے ہیں جو کہ حکام کے بقول "امریکی تاریخ میں دوطرفہ فوجی امداد کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔"

محکمہ خارجہ نے منگل کو اس معاہدے کی تصدیق کی لیکن اس کی مالیت کے بارے میں نہیں بتایا۔ لیکن اس سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 38 ارب ڈالر کا معاہدہ ہے۔

موجودہ دس سالہ معاہدے کی میعاد 2018ء میں ختم ہو رہی ہے اور جو کہ 31 ارب ڈالر کا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی کوشش رہی ہے کہ ان کے ملک کو سالانہ 4.5 ارب ڈالر ملیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت اسرائیل ملنے والی امداد کے ایک حصے کو اپنے فوجی سازوسامان کی خریداری پر خرچ کرنے کی بجائے امریکی ساختہ اسلحہ خریدنے پر صرف کرے گا۔

مزید برآں اسرائیل اضافی امداد کے لیے امریکی کانگریس سے بھی رابطہ نہیں کرے گا جیسا کہ ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔

اسرائیل کے اعلیٰ مذاکرات کار جیکب ناجل جو کہ نیتن یاہو کی قومی سلامتی کونسل کے قائم مقام سربراہ بھی ہیں، اطلاعات کے مطابق وہ معاہدے پر دستخط کی تقریب سے قبل ہی واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔

توقع ہے کہ وہ ہی امریکی نائب وزیر برائے خارجہ تھامش شینن کے ہمراہ اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

اس معاہدے سے متعلق مذاکرات کئی ہفتے پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس بارے میں اوباما انتظامیہ اور ایک اہم امریکی قانون ساز ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم کے درمیان بعض امور پر اختلاف پایا جاتا رہا۔ سینیٹر اس معاہدے میں کم قدغنوں اور زیادہ فیاضی کے لیے اصرار کرتے رہے ہیں۔

موقر امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے اتوار کو خبر دی تھی کہ اختلاف کا محور اسرائیلی میزائل دفاعی نظام سے متعلق فنڈز پر رہا ہے۔

اوباما انتظامیہ کا اصرار تھا کہ یہ فنڈ 50 کروڑ ڈالر سالانہ تک محدود رہیں اور گراہم چاہتے تھے کہ اسرائیل کو امریکی کانگریس سے میزائل دفاعی نظام کے لیے اضافی فنڈز حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے۔

امریکی قانون سازوں نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کو میزائل دفاعی پروگرام کے لیے 60 کروڑ ڈالر کی صوابدیدی فنڈز دیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG