رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ اور وزیرنتن یاہو ملاقات، تعلقات کی نئی شروعات


صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں۔ 15 فروری 2017

دونوں راہنماؤں نے انتہا پسند اسلامی، دهشت گردی کے مقابلےاور یہ یقینی بنانے پر اتفاق کیا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔

بدھ کے روزامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر أعظم بنیامن نتن یاہو نے ویائٹ ہاؤس میں ایک سر براہی اجلاس کے دوران اتحاد کا ایک پیغام دیا۔ یہ اجلاس سابق صدر براک أوباماکے دور میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک عرصے تک تعلقات کشیدہ رہنے کے بعد ہو ا ہے۔ صدر ٹرمپ کا اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ نتن یاہو کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کی ایک نئی شروعات۔۔۔۔ یہ وہ پیغام ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے بدھ کے روز دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر اپنے قابل قدر اتحادی کے ساتھ اپنے کبھی نہ ٹوٹ سکنے والے تعلق کی از سر نو توثیق کرتا ہے ۔

دونوں راہنماؤں نے انتہا پسند اسلامی، دهشت گردی کے مقابلےاور یہ یقینی بنانے پر اتفاق کیا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیا من نتن یاہو نے کہا کہ مسٹر پریزیڈنٹ ، آپ نے اس چیلنج سے نمٹنے کے سلسلے میں بہت صراحت اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے ۔ آپ ایران کی دهشت گرد حکومت کے مقابلے اور ایران کو اس خوفناک معاہدے کو ایک جوہری ہتھیارکی شکل دینے سے روکنے پر زور دیتے ہیں ۔

صدر ٹرمپ اور مسٹر نتن یاہو کے درمیان گہرے تعلقات رہ چکے ہیں جو امریکی صدارتی مہم کے دوران اور بھی گہرے ہوئے ۔

امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے متعلق مسٹر ٹرمپ کے وعدے سے بہت سے اسرائیلیوں کا حوصلہ بڑھا تھا ۔ مسٹر ٹرمپ نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آپ مجھ پر یقین کریں ہم اس کا بہت احتیاط سے جائزہ لے رہے ہیں، اورہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے ۔

اسرائیلی بستیوں کے مسئلے پر، مسٹر ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران انہیں جاری رکھنے کے موقف کو بھی تبدیل کر چکے ہیں اور اب وہ مسٹر نتن یاہو پر بستیوں کی توسیع میں ایک عارضی وقفے پر زور دے رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چاہوں گا کہ آپ ان بستیوں کو کچھ عرصے کے لیے روک دیں ۔ ہم اس سلسلے میں کچھ کریں گے لیکن میں کوئی معاہدہ طے پاتے ہوئے دیکھنا چاہوں گا۔ میرا خیال ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

یہ معاہدہ کس قسم کا ہو گا؟ اس بارے میں دونوں واضح نہیں ہیں ۔ بدھ کے روز مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ریاستی حل کے لیے تیار ہیں جو ایک ایسا موقف ہے جو امریکہ کی عشروں پر محیط پالیسی کو تبدیل کر دے گا۔ مغربی کنارے میں فلسطینی لبرشن آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل صائب ارکات نے کہا کہ انتخاب ہے ایک دو ریاستی حل ۔۔ انتخاب ہے ایک فلسطینی ریاست جو اسرائیلی ریاست کے ساتھ ساتھ امن اور سلامتی سے رہے ۔

لیکن واشنگٹن میں مزاج مثبت تھا، جہاں دونوں راہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے اور مزید گرم جوش دور کا خیر مقدم کیا۔

XS
SM
MD
LG