رسائی کے لنکس

صدر اوباما کے دورے سے قبل اسرائیل کے حامی گروپ کا اہم اجلاس

  • میریڈتھ بیول

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ تنازع جو عرصے سے جاری ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو واپس مذاکرات کی میز پر لانا واقعی ضروری ہے ۔

واشنگٹن میں اتوار کے روز جب اسرائیل کے حامی لابی گروپ ’اے آئی پی اے سی‘ کا سالانہ کنونشن شروع ہو گا، تو اس کے ایجنڈے میں ایران کا نیوکلیئر پروگرام، اور اسرائیل فلسطینی تنازع سرِ فہرست ہو گا ۔ یہ کنونشن ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب صدر براک اوباما اس مہینے مشرقِ وسطیٰ ، اور صدر کی حیثیت سے اسرائیل کے پہلے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ہر سال، ہزاروں یہودی امریکی، امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی یا AIPAC کے سالانہ کنونشن میں شرکت کے لیے واشنگٹن آتے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیل کی حامی یہ سب سے زیادہ طاقتور تنظیم ہے ۔

اوری نیرایک تنظیم کے ترجمان ہیں جس کا نام ہے امریکنز فار پیس ناؤ۔ یہ تنظیم اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستوں وا لے حل کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے ۔

اوری نیر کہتے ہیں’’یہ اجتماع ہمیشہ ایک پیغام بھیجتا ہے جو میرے خیال میں بڑا مثبت پیغام ہے، یعنی یہ کہ امریکی عوام اسرائیل کے ساتھ ہیں، اور یہاں امریکہ میں اسرائیل کے لیے زبردست حمایت موجود ہے۔‘‘

امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن امریکی کانگریس کے بہت سے ارکان کے ساتھ اس کنونشن سے خطاب کریں گے۔ توقع ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو سیٹالائٹ کے ذریعے اس اجتماع میں پیش ہوں گے۔

ایک بار پھر، ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تشویش ایجنڈے میں سب سے اوپر ہو گی۔

صدر اوباما نے گذشتہ سال اس اجتماع سے خطاب کیا تھا ۔’’کوئی اسرائیلی حکومت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کسی ایسی حکومت کے ہاتھوں میں نیوکلیئر ہتھیار آ جائے جو ہولوکاسٹ کی منکر ہے ، اسرائیل کو صفحہُ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دیتی ہے، اور ایسے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کرتی ہے جنھوں نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے ۔‘‘

اے آئی پی اے سی کی میٹنگ صدر اوباما کے مشرقِ وسطی کا دورہ شروع ہونے سے چند روز قبل شروع ہو رہی ہے ۔ ادھر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجوں کے درمیان پھر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ تنازع جو عرصے سے جاری ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو واپس مذاکرات کی میز پر لانا واقعی ضروری ہے ۔

پرنسٹن یونیورسٹی کے ڈینیئل کرٹزر کہتے ہیں ’’عرب موسم ِ بہار اور بغاوتوں کی وجہ سے ، علاقے میں اب صورتِ حال بہت پیچید ہ ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ تیزی سے اقدامات کیے جائیں، اور حالات کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔‘‘

اپنی صدارت کی پہلی مدت کے آغاز میں، صدر اوباما نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے کو ایک اہم ترجیح قرار دیا تھا ۔ لیکن مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سوال پر مذاکرات معطل ہو گئے۔ لیکن مسٹر اوباما ایک بار پھر کوشش کر سکتے ہیں۔

ڈیوڈ ماکووسکائی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بار پھر رابطہ قائم کر سکتے ہیں، صرف اسرائیلی عوام سے نہیں، بلکہ فلسطینی عوام سے بھی، اور یہ کہنے کا کوئی طریقہ معلوم کر سکتے ہیں کہ میرے لیے یہ مسئلہ اب بھی اہم ہے ۔‘‘

صدر کی طرف سے براہ راست رابطے سے امید کی کرن روشن ہو گی۔ حنان عشروی فلسطین کی تنظیمِ آزادی میں ایک اہم شخصیت ہیں ۔ وہ کہتی ہیں’’ہمیں امید ہے کہ اس طرح اس معاملے میں سنجیدگی کا اظہار ہو گا اور مثبت اور تعمیری انداز سے دوبارہ رابطے کا اشارہ ملے گا ۔‘‘

مشرقِ وسطیٰ کے مضطرب علاقے کے دورے میں ، شام میں خانہ جنگی گفتگو کا ایک اور اہم موضوع ہو گا ۔
XS
SM
MD
LG