رسائی کے لنکس

جاپان میں امریکی فوجی اڈے کی منتقلی کا مستقبل

  • اسٹیو ہرمن

جاپان میں امریکی فوجی اڈے کی منتقلی کا مستقبل

جاپان میں امریکی فوجی اڈے کی منتقلی کا مستقبل

ایسا لگتا ہے کہ جاپان اور امریکہ کے درمیان 2006 کا وہ سمجھوتہ منسوخ ہو جائے گا جس کے تحت اوکیناوا کے جزیرے میں واقع امریکہ کے ایک اہم فوجی اڈے کو موجودہ مقام سے ہٹا کر کسی کم پُر ہجوم مقام پر منتقل کر دیا جاتا ۔ جس شہر میں یہ اڈہ واقع ہے، وہاں حال ہی میں ایک نئے میئر کا انتخاب کیا گیا ہے۔

مقامی سیاست دانوں اور سرگرم کارکنوں کا اصرار ہے کہ جزیرہ اوکیناوا میں جو امریکی فوجی اڈے اور عملہ موجود ہے، اسے جزیرے میں ہی دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کے بجائے، مکمل طور سے کہیں اور لے جایا جائے ۔ ان حالات میں ، جاپانی عہدے دار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا تھا، اس پر عمل در آمد نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فیوٹینما میرین کور ایئر اسٹیشن جو جزیرے کے ایک گنجان آبادی والے شہر گنووان کے وسط میں واقع ہے، بدستور وہیں کام کرتا رہے گا۔

اتوار کے روز گنووان شہر میں ووٹروں نے اتسوشی ساکیما کو اپنا نیا میئر منتخب کیا۔ جیسے ہی یہ خبر آئی کہ ساکیما کی کامیابی یقینی ہو گئی ہے، اور انھوں نے بائیں بازو کے حریف اور فوجی اڈے کے شدید مخالف امید وار کو ہرا دیا ہے، تو ہر طرف بانزئی یعنی زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے۔ لیکن ساکیما نے انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ امریکی میرین ایئر اسٹیشن کو جزیرے سے ہٹوا دیں گے ۔

میئر منتخب ہونے کے بعد، انھوں نے رپورٹروں کے سامنے اپنے اس موقف کو دہرایا۔ ساکیما نے کہا کہ اوکیناوا کے گورنر کے ساتھ مل کر، وہ مرکزی حکومت سے یہ اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایئر اسٹیشن کے معاملے کو حل کرے اور میرین فوجیوں کو کہیں اور منتقل کر دے تا کہ مقامی آبادی پر دباؤ کم ہو جائے ۔

گذشتہ ہفتے میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ جزیرہ اوکیناوا میں جو تقریباً 1,500 امریکی میرین فوجی موجود ہیں ، انہیں جاپان میں کہیں اور منتقل کر دیا جائے گا۔ لیکن اوکیناوا میں سابق امریکی کونسل جنرل ماہر کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ’’مجھے جاپانی اور امریکی دونوں حکومتوں کے لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ تجویز کہ کچھ میرین فوجیوں کو کسی اور جگہ، خاص طور سے ایواکیونی منتقل کر دیا جائے، حکومتوں کے سطح پر زیرِ غور نہیں ہے ۔‘‘

یہ ان 8,000 میرین فوجیوں کا حصہ ہوں گے جنہیں ابتدائی پروگرام کے مطابق اوکیناوا سے گوام بھیجا جانا تھا ۔ یہ انتظام چھ برس پرانے اس سمجھوتے کا حصہ تھا جس کے تحت جاپان میں امریکی فورسز کو منتقل کیا جانا تھا۔ امریکہ اور جاپان نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا کہ وہ ایئر اسٹیشن کی کسی اور جگہ منتقلی کے سوال کو جزیرے سے میرین فوجیوں سے منتقلی سے علیحدہ کر رہے ہیں۔

ماہر، جو اب کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ جاپانی حکومت اوکیناوا کے لوگوں پر یہ بات واضح نہیں کر سکی ہے کہ امریکی اڈے اتنے اہم کیوں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اڈے نہ صرف جاپان کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہیں، بلکہ اوکیناوا کے لوگوں کے لیے بھی اہم ہیں، خاص طور سے ایسے وقت میں جب چین بڑی پھرتی سے سمندروں میں اپنی بحریہ کی صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے۔’’چین کی توجہ کا مرکز جاپان کے جنوب مغرب میں Ryukyu کے جزیرے ہیں ۔ اگر آپ چینیوں کی جزیروں کی پہلی حکمت عملی پر نظر ڈالیں جس میں اوکیناوا کے جزائر بھی شامل ہیں، تو چینیوں کی ان علاقوں تک پہنچنے یا ان تک رسائی سے محرومی کی حکمت عملی کے اثرات اوکیناوا کے جزائر پر پڑیں گے۔ لہٰذا اوکیناوا کے لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ وہ ایسے مقام پر اور ایسی صورتِ حال میں ہیں ، جو بڑی اسٹریٹجک ہے ۔‘‘

جاپان میں امریکہ کے جو 50,000 فوجی تعینات ہیں، ان کی تقریباً نصف تعداد اوکیناوا میں ہے۔ ان میں 18,000 میرین فوجی شامل ہیں۔

ماہر گذشتہ سال سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے جب انھوں نے مبینہ طور پر اوکیناوا کے لوگوں کے بارے میں کچھ متنازع کلمات ادا کیے تھے جو ایک جاپانی نیوز ایجنسی میں شائع ہو گئے تھے۔ ماہر نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے واشنگٹن میں یونیورسٹی کے طالب علموں کو بریف کرتے ہوئے، کوئی قابلِ اعتراض بات کہی تھی ۔

XS
SM
MD
LG