رسائی کے لنکس

بقول سی آئی اے کے سربراہ، ’’وہ اپنے آپ کو صومالی، نائجیریائی یا یمنی نہیں کہلاتے‘‘۔ جو بات صورت حال کو مزید گھمبیر بناتی ہے وہ یہ احساس ہے کہ محض فوجی طاقت، چاہے وہ کتنی بھی قوت رکھتی ہو، داعش یا کسی اور پختہ دہشت گرد تنظیم کو زچ کرنے کے لیے کافی نہیں‘‘

عراق اور شام میں داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف امریکہ اور اتحاد کی حمایت سے نبردآزما افواج کی سست روی سے لیکن لگاتار پیش رفت اِن جہادی تنظیموں کے خلاف وسیع تر لڑائی میں کچھ زیادہ بگاڑا نہیں جا سکا، جو مغرب پر حملوں پر تُلی ہوئی ہیں۔

فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے مطابق، یہ ڈراؤنا تجزیہ متعدد عوامل سے تعلق رکھتا ہے، جو غیر معیاری حاکمیت اور عدم استحکام کے خوف سے لے کر آبادی کے کچھ حصوں میں ابھرتے ہوئے بیگانگی کے احساس پر مشتمل ہے۔ مجموعی طور پر، وہ کہتے ہیں کہ یہ صورت حال میں طویل مدت کے ثقافتی تعلقات اور وفاداریاں ختم ہوتی جارہی ہیں، جب کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کچھ حصے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے گذشتہ ہفتے قانون سازوں کو متنبہ کیا تھا کہ ’’زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی حکومتوں سے خفگی کا احساس ہو چلا ہے، اس لیے وہ اب اپنی شناخت نچلے گروہوں کے ساتھ کر رہے ہیں، چاہے اُن کا تعلق داعش، النصرہ، بوکو حرام یا دیگر سے ہو‘‘۔

بقول اُن کے، ’’وہ اپنے آپ کو صومالی، نائجیریائی یا یمنی نہیں کہلاتے۔۔۔۔ جو بات صورت حال کو مزید گھمبیر بناتی ہے وہ یہ إحساس ہے کہ محض فوجی طاقت، چاہے وہ کتنی بھی قوت رکھتی ہو، داعش یا کسی اور پختہ دہشت گرد تنظیم کو زچ کرنے کے لیے کافی نہیں‘‘۔

دوید گارنستائین روز ’فاؤنڈیشن فور ڈفنس آف ڈیموکریسیز‘ میں ایک سینئر فیلو ہیں۔ بقول اُن کے، ’’داعش کو شکست دینے سے جہادی نظریے کی شکست نہیں ہوتی‘‘۔ اُن کے الفاظ میں ’’حالات عالمی جہادی تحریک کے حق میں ہیں‘‘۔

القاعدہ کا پھر سے فروغ

کچھ اعتبار سے، داعش کے فروغ پانے اور عالمی جہادی تنظیم کے طور پر منظر پر ابھرنے سے درحقیقت حریف مضبوط ہوئے ہیں، جن میں خاص طور پر القاعدہ شامل ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کے اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ القاعدہ نے ’جبھة النصرہ‘ کو اپنا کل پرزہ قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے اس جانب دھیان مبذول کریا کہ گذشتہ دو برس شام میں لڑائی کے دوران، یہ گروپ زیادہ طاقت ور بن کر سامنے آیا ہے۔

انٹیلی جنس کے اہل کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ اس وقت جبھة النصرہ کے کئی ہزار لڑاکے ہیں، گروپ کی صلاحیت خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

روز کی طرح کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ’’ایسے میں جب جبھة النصرہ کی اصل تنظیم کو افغانستان میں کافی نقصان پہنچا ہے، جو ایک وقت اُس کا محفوظ ٹھکانہ تھا‘‘۔ وہ متنبہ کر رتے ہیں کہ ’’القاعدہ کے وسائل اور پہنچ سے متعلق غلط اندازہ لگانا غلطی ہوگی۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ ’’لوگ القاعدہ کے طریقہٴ کار کو اصل حقیقت سے بڑھا چڑھا کر بھی پیش کرتے ہیں، جتنی کہ یہ نہیں رہی‘‘۔

گارتنستائن روز کے بقول ’’وہ علاقے پر قابض ہیں۔ لیکن لوگ اس کے بارےمیں فکر مند نہیں۔ یمن سے شام اور لیبیا سے مالی تک مقامی آبادیاں اِن کے ساتھ گٹھ جوڑ کرچکی ہیں‘‘۔

اپنی ہیئت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے باعث، لگتا یوں ہے کہ القاعدہ کی رسائی وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔

جیسیکا مک فیٹ امریکی فوج کی ایک سابقہ انٹیلی جنس اہل کار رہی ہیں۔ وہ اِن دِنوں ’انسٹی ٹیوٹ فور اسٹڈی آف وار‘ سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’القاعدہ نے سلفی جہادیوں کے حلقوں کی حمایت حاصل کرلی ہے، جنھیں داعش کے مظالم کے نتیجےمیں پسپائی ملی۔ لیکن، اُن کا نظریہ باقی ہے۔ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ اُنھیں کم از کم نصف اہمیت دی جائے‘‘۔

داعش کی موت القاعدہ کا فروغ

دیگر تجزیہ کاروں کی طرح، مک فیٹ کو بھی داعش اور خود ساختہ ’’خلافت‘‘ کی موت سے پریشانی لاحق ہے، کیونکہ اس سے القاعدہ کو اس سے زیادہ فروغ ملتا ہے۔

بقول اُن کے ’’میں اسے تقریباً 50 فی صد امکان کہوں گی جس سے داعش کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے؛ اور یہ کہ اس کا 50 فی صد امکان ہے کہ القاعدہ خالی جگہ پُر کر لیتی ہے۔ ہمیں بہت محتاط ہو کر سوچنا ہوگا، قبل اس کے کہ القاعدہ مزید چوڑی ہوکر نمودار ہو‘‘۔

XS
SM
MD
LG