رسائی کے لنکس

افغانستان: امریکی صحافی اور افغان مترجم حملے میں ہلاک


ڈیوڈ گلکی

ڈیوڈ گلکی

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ اس خطرے کی یقین دہانی ہے جو افغان عوام کو مسلسل درپیش ہے۔۔۔اور نڈر صحافیوں کی جرات کی بھی یاد دلاتا ہے۔"

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں ایک امریکی صحافی اور ان کا افغان مترجم حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ افراد افغان فوج کی ایک یونٹ کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ حملے کی زد میں آ گئے۔

امریکہ میں قائم "نیشنل پبلک ریڈیو" یعنی این پی آر نے مرنے والے فوٹو جرنلسٹ کی شناخت ڈیوڈ گلکی کے طور پر کی ہے جب کہ مارے جانے والے مترجم کا نام ذبیح اللہ تمنا تھا۔

حملے کا نشانہ بننے والے قافلے میں موجود دیگر دو صحافی محفوظ رہے۔

اتوار کو دیر گئے تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ فوجی یونٹ میں کتنے لوگ تھے اور آیا ان کا بھی کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

بیجنگ کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ اس خطرے کی یاد دہانی ہے جو افغان عوام کو مسلسل درپیش ہے ۔۔۔ اور نڈر صحافیوں کی جرات کی بھی یاد دلاتا ہے۔"

’این پی آر‘ کی ویب سائٹ پر 50 سالہ گلکی کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ایک ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر اور وڈیو ایڈیٹر تھے اور ستمبر 2001ء میں امریکہ پر ہوئے دہشت گرد حملوں کے بعد ان اولین صحافیوں میں شامل تھے جو بغیر کسی کی مدد کے افغانستان میں داخل ہوئے۔

گلکی نے 2008ء اور 2009ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ اور پھر 2010 میں ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کی بھی کوریج کی تھی۔

امریکہ میں قائم صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم "کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس" نے اتوار کو ایک بیان میں اس واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان بدستور صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک ہے۔

XS
SM
MD
LG