رسائی کے لنکس

حکومت چاہتی ہے کہ ایپل ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے تفتیشی افسر فون کا پاس ورڈ جانے بغیر آئی فون میں موجود معلومات تک پہنچ سکیں۔

ایک امریکی جج نے ایپل کمپنی کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک اور مجرمانہ کیس میں استعمال کیے گئے آئی فون کو کھولنے میں پولیس کی مدد کرے۔ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے درمیان ٹیلی فون معلومات کی "خفیہ کاری" پر جھگڑے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

بوسٹن کے ایک میجسٹریٹ نے کہا ہے کہ ایپل کو حکومت کو مناسب مدد دینی چاہیئے جس میں فون میں موجود معلومات تک رسائی، انہیں ہارڈ ڈرائیو پر منتقل کرنا اور وہ ہارڈ ڈرائیو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کرنا شامل ہو۔

عدالت نے یہ حکم یکم فروری کو جاری کیا تھا مگر جمعے کو اسے عوام کے لیے جاری کیا گیا۔

یہ کیس دسمبر میں کیلیوفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ہونے والے دہشت گرد واقعے کے مشتبہ حملہ آور سید رضوان فاروق کے زیر استعمال فون کو کھولنے سے متعلق ایپل اور حکومت کی قانونی جنگ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس واقعے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومت نے اس کیس میں حملہ آور کا آئی فون کھولنے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایپل کے خلاف قانونی چارہ جوئی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ جس طریقے سے سان برنارڈینو حملہ آور کا آئی فون کھولنے میں کامیاب ہوئے وہ صرف ایک مخصوص ٹیلی فون اور آپریٹنگ سسٹم کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔

جمعے کو محکمہ انصاف نے کہا کہ وہ ایپل پر زور ڈالتا رہے گا کہ وہ اس آئی فون میں مخفی معلومات تک رسائی میں مدد دے جو نیو یارک میں منشیات سے متعلق ایک کیس سے منسلک ہے۔ ایپل کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں۔

حکومت چاہتی ہے کہ ایپل ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے تفتیشی افسر فون کا پاس ورڈ جانے بغیر آئی فون میں موجود معلومات تک پہنچ سکیں۔

ایپل عدالت کے احکامات کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حکومت کے مطالبات کمپنی کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور یہ ایپل کمپنی کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ صارفین کے ایپل پر ان کی معلومات کے تحفظ کے بارے اعتماد کر ٹھیس پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG