رسائی کے لنکس

سابق امریکی سفارت کار کے خلاف جاسوسی کی تحقیقات ختم


رابن رافیل (فائل فوٹو)

رابن رافیل (فائل فوٹو)

رابن رافیل کے خلاف جب تحقیقات کا آغاز کیا گیا اس وقت وہ محکمہ خارجہ کی طرف سے افغانستان اور پاکستان کے لیے نمائندہ خصوصی کی مشیر اعلیٰ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

سابق سفیر اور پاکستانی امور کی ماہر سفارتکار رابن رافیل کی وکیل کا کہنا ہے کہ امریکہ کے محکمہ انصاف نے ان کی موکلہ کے خلاف الزامات عائد کیے بغیر جاسوسی کی تحقیقات ختم کر دی ہیں۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے شبہے میں نومبر 2014 میں رابن رافیل کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

ان کی وکیل ایمی جیفریس نے کہا کہ محکمہ انصاف نے رابن رافیل کے خلاف طویل تحقیقات کے بعد انہیں تمام الزامات سے مکمل طور پر بری کر دیا ہے۔

ایمی جیفریس نے کہا کہ یہ تحقیقات ایک ’’بینادی غلط فہمی‘‘ پر مبنی تھیں۔

رابن رافیل سفارتکاری کا طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ جب ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا اس وقت وہ محکمہ خارجہ کی طرف سے افغانستان اور پاکستان کے لیے نمائندہ خصوصی کی مشیر اعلیٰ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

محکمہ انصاف کی ترجمان ملانی نیومین نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

رابن رافیل تیونس میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں جس کے بعد انہوں نے جنوبی ایشیا کے امور کے لیے معاون سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ اپنی 30 سالہ سفارتی ملازمت کے بعد 2005ء میں وہ ریٹائر ہوئیں۔

2009ء میں انھیں کنٹریکٹ پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں پاکستان کے لیے غیر فوجی امداد کے معاملات کے نگراں کے طور پر تعینات کیا گیا۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے میں ان کی تعیناتی پر مختلف حلقوں کی جانب سے اس بنا پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کسیڈی اینڈ ایسوسی ایٹس نامی فرم کے ساتھ منسلک ہوگئی تھیں جو پاکستان کے لیے لابی کرتی ہے۔

دو سال بعد وہ واشنگٹن واپس آئیں اور نومبر 2014 تک محکمہ خارجہ میں پاکستان اور افغانستان کے خصوصی نمائندے کے دفتر میں کام کرتی رہیں جس کے بعد ان کے خلاف جاسوسی اور خفیہ دستاویزات گھر لے جانے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG