رسائی کے لنکس

کوریا: جوہری مذاکرات پر پیش رفت میں ناکامی


خصوصی امریکی نمائندہ گلین ڈیوس

خصوصی امریکی نمائندہ گلین ڈیوس

امریکہ کے خصوصی ایلچی نے کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی، جاپان اور جنوبی کوریا، کو ان باتوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو شمالی کوریا کے مذاکرات کاروں نے انھیں بتائیں

امریکہ کے ایک ایلچی نے کہا ہے کہ ان کی شمالی کوریا سے جوہری تحفیف اسلحہ پر ہونے والی بات چیت میں ’’معمولی پیش‘‘ ہوئی ہے لیکن اس بابت کوئی بڑی کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے شمالی کوریا پالیسی گلین ڈیوس نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ بیجنگ میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں جوہری عدم پھیلاؤ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور خطے کے دیگر کشیدہ معاملات پر بات ہوئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی، جاپان اور جنوبی کوریا، کو ان باتوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو شمالی کوریا کے مذاکرات کاروں نے انھیں بتائیں۔

ڈیوس نے رواں ہفتے کہا تھا کہ پیانگ یانگ کی طرف سے مذاکرات کی بحالی پر رضامندی سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ قیادت کی تبدیلی سے شمالی کوریا کی پوزیشن میں کوئی بدلاؤ آیا ہے یا نہیں۔

گزشتہ دسمبر میں دو ملکوں کے عہدیدار شمالی کوریا میں سیلاب اور مخدوش کاشتکاری کے باعث بڑے پیمانے پر متاثرہ علاقوں میں امریکہ کی طرف سے غذائی امداد بھیجنے کے امکانات پر بات چیت کرتے رہے۔ اطلاعات کے مطابق پیانگ یانگ اپنی یورینیم کی افژودگی معطل کرنے پر رضا مند ہونے ہی والا تھا کہ کم جونگ ال کی وفات سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

حالیہ مہینوں میں پیانگ یانگ چھ فریقی مذاکرات کی بحالی پر زور دیتا آیا ہے جو 2003ء میں شروع ہوئے تھے لیکن ان میں دو سال کا تعطل آگیا تھا۔

XS
SM
MD
LG