رسائی کے لنکس

عراق میں کار بم دھماکوں کی نئی لہر، 20 ہلاک


فائل

فائل

ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایک عراقی قصبے میں اس مقام پر بمباری کی ہے جہاں مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کا ایک اجلاس ہورہا تھا۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور مغربی شہر رمادی میں ہفتے کو ہونےو الے کئی کار بم دھماکوں کے نتیجے میں پانچ فوجیوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق زیادہ ہلاکتیں بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے الامین میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ہوئیں جس کے نتیجے میں آٹھ افراد مارے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بغداد کے شیعہ اکثریتی ضلعے عامل میں بھی دو کار بم دھماکےہوئے جن میں ہونےو الی ہلاکتوں کی درست تعداد تاحال واضح نہیں۔

ہفتے کو عراق کے مغربی صوبے الانبار کے شہر رمادی میں ایک خود کش حملہ آور نے اپنی بارود سے بھری گاڑی فوجی چوکی سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

علاقہ پولیس کے ایک افسر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خود کش حملے سے قبل چوکی پر شدت پسندوں کی جانب سے کئی مارٹر فائر کیے گئے جس کے بعد حملہ آور نے اپنی گاڑی چوکی سے ٹکرادی۔

پولیس افسر کے مطابق حملے سے قبل پولیس کے دستے کسی کارروائی کے لیے علاقے میں پہنچے تھے جن پر مارٹر حملے کیے گئے جو ایک گھنٹے تک جاری رہے۔

تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن عراقی حکام اور ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حملوں کی نوعیت شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ماضی میں کی جانے والی کارروائیوں سے ملتی جلتی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری

دریں اثنا عرب ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے شام کی سرحد کے نزدیک واقع ایک عراقی قصبے میں اس مقام پر بمباری کی ہے جہاں مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کا ایک اجلاس ہورہا تھا۔

عرب ٹی وی چینلز 'الجزیرہ' اور 'الحدث' کے مطابق عراقی قصبے القائم پر ہفتے کو کیے جانے والے اس فضائی حملے میں 12 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ بمباری ایک گھر پر کی گئی جہاں دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کا اجلاس جاری تھی۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس حملے میں شدت پسند تنظیم کا کوئی اہم رہنما بھی ہلاک ہوا ہے یا نہیں۔ عراقی حکام نے بھی تاحال ان خبروں پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ القائم کا عراقی قصبہ اور سرحد پار شام میں اس کے مقابل آباد البوکمال نامی قصبہ اس اہم سرحدی راستے پر واقع ہیں جن کے ذریعے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے زیرِ قبضہ عراقی اور شامی علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG