رسائی کے لنکس

شام حکومت کی فورسز پر امریکی قیادت کے طیاروں کا حملہ


فائل فوٹو

امریکی قیادت کے طیاروں نے ایک ایسے علاقے میں جہاں شام، اردن اور عراق کی سرحدیں ملتی ہیں، شام حکومت کی حامی فورسز پر فضائی حملے کیے۔

دفاع سے متعلق ایک امریکی عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایک مقامی کمانڈر نے بتایا کہ شام حکومت کی حامی فورسز سرحدی گذرگاہ التنف کے قریب واقع ایک غیر فوجی علاقے میں کارروائی کر رہی ہیں جس سے ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

عہدے دار نے بتایا کہ اتحادی فورسز نے شام حکومت کی حامی فورسز کو غیر فوجی علاقے سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے طاقت کا مظاہرہ کیا اور انہیں باز رکھنے کے لیے گولیاں چلائیں۔

تاہم جب مقامی کمانڈر نے یہ محسوس کیا کہ شام کی حکومت نواز فورسز کی پیش قدمی جاری ہے تو پھر انہوں نے فضائی مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

مقامی میڈیا نے بتایا کہ فضائی حملے سے کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے اور بہت سے گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ جب حملہ ہوا تو کیا اس وقت شام حکومت کی حامی فورسز کے ساتھ روسی فوج کے دستے بھی تھے یا نہیں۔

دفاع سے متعلق امریکی عہدے داروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فضائی حملہ پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں موجود ایک کمانڈر نے اپنی فورسز کے تحفظ کے لیے فضائی مدد طلب کی تھی۔

جیسے جیسے شام حکومت کی فورسز اور امریکی سرپرستی کی شامی أفواج پیش قدمی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دونوں فریقوں کی فورسز یہ کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنے علاقے سے داعش کو نکالنے کی کوشش کررہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG