رسائی کے لنکس

انسدادِ دہشت گردی : قانونی جنگ میں امریکی حکومت کی جیت

  • جم ملون

امریکی محکمہٴ خارجہ نے جِن تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا ہے اُن کی کوئی فرد یا ادارہ مادی امداد نہیں کر سکتا۔

اِس امریکی قانون کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے اور اِس کے حق میں چھ ججوں نے فیصلہ دیا ہے، جب کہ تین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

کانگریس نے یہ قانون 1996ء میں منظور کیا تھا اور پھر سنہ 2001ء کے دہشت گردی کے حملے کے بعد اِسے ‘پیٹریاٹ ایکٹ’ کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔

اِس قانون کے تحت، امریکی شہریوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ نامزد دہشت گرد تنظیموں کو جانتے بوجھتے ہوئے کسی قسم کی خدمات، تربیت، ماہرانہ مشورے یا مدد نہیں دے سکتے۔

سابق صدر جارج بش کے دور میں محکمہٴ انصاف کے سابق افسر اور جارج ٹاؤن یونی ورسٹی کے لا اسکول کے قانونی اسکالر، ویت ڈنہہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے اِس فیصلے کے مطابق کانگریس ایسی بے ضرر اور تحفظ شدہ سرگرمیوں کو بھی جرم قرار دے سکتی ہے اگر اُن کا تعلق یا ربط نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے قائم ہوتا ہوا نظر آئے۔

دوسری طرف آزادیٴ اظہار کے حامی سپریم کورٹ کے اِس فیصلے پر خوش نظر نہیں آتے۔

شیرون بریڈفورڈ فرینکلن، ‘کانسٹی ٹیوشن پراجیکٹ’ سے منسلک ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کا یہ قانون امریکی آئین میں آزادی اظہار کی دی گئی ضمانتوں کی پابندی نہیں کرتا ہے یا اُس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

فرینکلن کا کہنا تھا کہ ایسے قوانین کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ‘ہمارے ادارے کانسٹی ٹیوشن پراجیکٹ کے مطابق یہ آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔’

واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے اِس قانون کے تحت اگر کسی کو اِس جرم کا مرتکب پایا گیا تو اُسے 15سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

محکمہٴ انصاف نے بتایا ہے کہ سنہ 2001ء کے بعد سے اِس قانون کی خلاف ورزی پر 150افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی اور اُن میں سے نصف کو سزا دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG