رسائی کے لنکس

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود قذافی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا

  • محمد الشناوی

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود قذافی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود قذافی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا

واشنگٹن میں لیبیا کے سابق سفیر سمیت، امریکہ میں رہنے والے لیبیا کے باشندے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو انتباہ کر رہے ہیں کہ وہ معمر قذافی کے اس اعلان سے دھوکے میں نہ آئیں کہ لیبیا میں حکومت مخالف فورسز کے ساتھ جنگ بندی ہو گئی ہے ۔ امریکہ میں لیبیا کے لوگوں کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کی پابندیوں اور ملک پر نو فلائی زون کی منظوری کے باوجود، مسٹر قذافی کا ارادہ اب بھی یہی ہے کہ تمام مخالفین کا صفایا کر دیا جائے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پرعمل درآمد کی تیاری کر رہےہیں جس کے تحت لیبیا پر نو فلائی زون عائد کیا جائے گا اور لیبیا کی سویلین آبادی کو حکومت کی فوج کے حملوں سے بچانے کے لیئے تمام ضروری اقدامات کیئے جائیں گے۔اگرچہ مسٹر قذافی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کو اس اقدام کی منظوری کا کوئی حق نہیں ہے، لیکن ان کے وزیرِ خارجہ Mussa Kussa کہتے ہیں کہ لیبیا کے لیئے اس قرار داد کو قبول کرنا لازمی ہے ۔’’اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ لیبیا اقوامِ متحدہ کا پورا رکن ہے، ہم تسلیم کرتےہیں کہ ہم پر سلامتی کونسل کی قرار داد کو قبول کرنا لازم ہے۔ لہٰذا ، لیبیا نے طے کیا ہے کہ فوری جنگ بندی کر دی جائے اور تمام فوجی کارروائیاں روک دی جائیں۔‘‘

لیکن امریکہ میں لیبیا کے سابق سفیر، علی اوجعلی کو ان باتوں کا اعتبار نہیں۔ اوجعلی جو لیبیا کی حزب اختلاف کی نیشنل پروویژنل کونسل کی نمائندگی کرتے ہیں، کہتے ہیں مسٹر قذافی دھوکہ دے رہے ہیں۔ وہ بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان کی باتوں میں نہ آئے۔’’مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ وزیرِ خارجہ نے قرار داد کا خیر مقدم کیا ہے۔ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیئے ۔ یہ ایک چال ہے ۔ یہ شخص قرارداد کا خیر مقدم کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی Misrata پر حملہ بھی جاری ہے اور لوگ مارے جا رہےہیں۔ وہ اپنی فوجیں اہم مقامات پر لے جا رہے ہیں۔‘‘

اوجعلی کہتے ہیں کہ صدر براک اوباما کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہ صرف نو فلائی زون کے لیئے کام کرنا چاہیئے بلکہ لیبیا کی سویلین آبادی کو بچانے کے لیئے زمینی اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔’’اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد میں قذافی کی قتل و غارت گری کو روکنے کے لیئے دوسرے اقدامات کا ذکر نہ ہوتا، تو اس سے لیبیا کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت نہ ہوتی۔ صرف نو فلائی زون سے ہم محفوظ نہیں ہو سکتے۔ مسٹر قذافی کی فورسز کو نشانہ بنانا اہم ہے، ورنہ وہ کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں ۔وہ کیمیکل ہتھیار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ شخص کیا کر بیٹھے گا۔‘‘

امریکی عہدے دار کہتےہیں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ لیبیا کی سویلین آبادی کو بچانے کے لیئے تمام ضروری اقدامات کیئے جا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکن ممالک قانونی طور پر مسٹر قذافی کی فورسز کے خلاف کارروائی کر سکتےہیں جو سویلین علاقوں پر حملوں کے لیئے تیار ہیں۔ اگرچہ صدر اوباما نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ نو فلائی زون قائم کرنے کے لیئے کیا اقدامات کرے گا، لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کی زمینی فوج لیبیا پر حملہ نہیں کرے گی۔ تا ہم، انھوں نے وہ اقدامات گنوائے جو اقوام متحدہ کی قرار داد کی تعمیل میں لیبیا کو کرنے ہوں گے ۔ انھوں نے کہا’’

قذافی کو بن غازی کی طرف سے اپنی فوجوں کی پیش قدمی روکنی ہوگی، اپنی فوجوں کو Adjabiyah, Misurata اور زاویہ سے واپس بلانا ہوگا، اور تمام علاقوں میں پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی بحال کرنی ہوگی۔لیبیا کے لوگوں تک انسانی ضرورت کی چیزیں پہنچنے کی اجازت ہونی چاہیئے ۔ میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔ ان شرائط پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔ اگر قذافی اس قرارداد کی تعمیل نہیں کرتے، تو بین الاقوامی برادری کارروائی کرے گی، اور قرار داد پر فوجی کارروائی کے ذریعے عمل در آمد کیا جائے گا۔‘‘

لیبیا کی حزبِ اختلاف کے عہدے داروں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی تحریک یہ نہیں چاہتی کہ لیبیا کی سرزمین پر غیر ملکی فوجیں آئیں۔ Ali Abuzaakouk واشنگٹن ڈی سی میں قائم لیبیا ہیومن اینڈ پولیٹیکل ڈویلپمنٹ فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے پیشگوئی کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی نو فلائی زون اور تمام ضروری اقدامات کی قرار داد سے لیبیا کے لوگوں کو اپنا ملک مسٹر قذافی سے واپس لینے میں مدد ملے گی۔’’اس طرح قذافی کی جمہوریت کی حامی فورسز سے زیادہ مضبوط بننے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔ اب وہ زمینی، فضائی اور بحری فورسز استعمال نہیں کر سکتے۔ اب لیبیا کے لوگوں کے لیئے انہیں ختم کرنا آسان ہے۔‘‘

امریکہ میں آباد Abuzaakouk جیسے لیبیا کے بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اب ان کے ہم وطن اپنے ملک کی دولت اور انسانی وسائل کو ملک میں ایک جمہوری حکومت قائم کرنے کے لیئے استعمال کر سکتےہیں، جو لوگوں کی امنگوں کی آئینہ دار ہو گی۔

XS
SM
MD
LG