رسائی کے لنکس

لیبیا اہمیت کا حامل ہے، لیکن اہم امریکی مفادات کا معاملہ نہیں: امریکہ

  • مائیکل بومین

لیبیا اہمیت کا حامل ہے، لیکن اہم امریکی مفادات کا معاملہ نہیں: امریکہ

لیبیا اہمیت کا حامل ہے، لیکن اہم امریکی مفادات کا معاملہ نہیں: امریکہ

بن غازی پر چڑھائی کی صورت میں ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتارے جاتے، لاکھوں لوگ گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوتے، جِن میں سے زیادہ تر مصر کی طرف ترک وطن کرتے، جو پہلے ہی سےایک مشکل عبوری دور میں الجھا ہوا ہے

اوباما انتظامیہ لیبیا میں فوجی مداخلت کے فیصلے کا دفاع کر رہی ہے، حالانکہ وہ یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ اُس ملک سے امریکہ کے کوئی اہم مفادات وابستہ نہیں ہیں۔

صدر براک اوباما کی طرف سے پیر کو لیبیا پر امریکی اقدام کےبارے میں قوم سے اپنے خطاب سے ایک روز قبل ، وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس سے سوال پوچھا گیا آیا لیبیا میں افراتفری اور خون خرابے کی صورتِ حال سے امریکہ کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔

رابرٹ گیٹس نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کسی اہم امریکی مفاد کا نہیں ۔’ تاہم، یہ ایک ایسا مفاد ہے جس کا عربوں (عرب لیگ)، یورپی لوگوں اور انسانی ہمدری کے عام سوال سے تعلق ہے۔ آپ نے لیبیا، مصر اور تیونس کے مشرق و مغرب میں انقلابات رونما ہوتے دیکھے ہیں۔ اِس لیے، لیبیا میں ہونے والی ہل چل کے ممکنہ اثرات دونوں تیونس اور مصر پر پڑ سکتے تھے۔ اور یہی بات امریکہ کے لیے فکر کا موجب تھی۔‘

گیٹس ’اے بی سی دِس ویک‘ ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ اُسی پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اِس بات کی طرف توجہ دلائی کہ لیبیا میں مداخلت نہ کرنے کی صورت میں کیا نتائج نکل سکتے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم حرکت میں نہ آتے اور700000کے شہر بن غازی پر چڑھائی ہوتی، اُس صورت میں ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتارے جاتے، لاکھوں لوگ گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوتے، جِن میں سے زیادہ تر مصر کی طرف چلےجاتے جو پہلے ہی سےایک مشکل عبوری دور میں الجھا ہوا ہے۔ اگر ہم یہاں خاموش بیٹھے رہتے اُس صورت میں شور اِس بات پر اُٹھتا کہ امریکہ نے کیوں کچھ نہیں کیا؟

لیبیا پر نو فلائی زون کے قیام کوریاستِ ایری زونا سے ری پبلیکن پارٹی کے اعلیٰ عہدے دار اور سینیٹ کی مسلح افواج کے بارے میں کمیٹی کے رُکن جان مک کین کی حمایت حاصل ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم اہم مفادات کی تشریح پر سوالات اُٹھاتے رہیں گے۔ ہم نے سابق یوگوسلاویہ میں سربیکا کے قتلِ عام پر 1995ء میں کہا کہ ، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ روانڈا کے بعد کہا، ایسا نہیں ہوگا۔ اور نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام کے بعد کہا کہ پھر ایسا نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ لیبیائی لیڈر معمر قذافی کی فوجیں بن غازی سے کچھ ہی دور کھڑی تھیں۔ اُنھوں نے خود ہی کہ دیا تھا کہ وہ ایک ایک گھر میں جائیں گے اور لوگوں کو ہلاک و قتل کریں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ ایسی صورتِ حال کے سامنے آنے سے ذراہ سا پہلے نو فلائی زون قائم ہوا اور ہم نے ایسی صورت حال کوہونے سےروک دیا۔

میک کین نے یہ بات اتوار کے دِن فاکس نیوز پر گفتگو میں کہی۔

چند امریکی قانون سازوں نے کانگریس کی باضابطہ منظوری کے بغیر بیرونِ ملک طاقت کے استعمال پر آواز بلند کی ہے۔

تاہم سینیٹر مک کین حکومت مخالفیں کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے لیبیا میں مداخلت کی اجازت دیے جانے سےکئی ہفتے قبل اوباما انتظامیہ سےاقدام کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے قذافی کو ایسا کرنے دیا ہوتا تو آپ مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے لیڈروں، آمروں کو دراصل یہ پیغام دے رہے ہوتے کہ اقتدار میں رہنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کا قتلِ عام جائز ہے۔ دیکھیں ، یہ لمحہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ ہمیں ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم عرب دنیا کے طول و ارض میں جمہوریت اور آزادی کے حصول میں مددگار ثابت ہوں۔

وزیرِ دفاع گیٹس نے کہا کہ نیٹو کی طرف سے لیبیا کی کارروائیوں میں قائدانہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد امریکہ کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ اپنے مشن کی سطح میں کمی لائے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا اِس سال کےاواخر تک یہ مشن مکمل ہوجائے گا، گیٹس نے کہا کہ ’ میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو اِس بات کا جواب معلوم ہے۔‘

XS
SM
MD
LG