رسائی کے لنکس

لیبیا کے بارے میں امریکی کردار پر تنقید

  • جم میلون

لیبیا کے بارے میں امریکی کردار پر تنقید

لیبیا کے بارے میں امریکی کردار پر تنقید

لیبیا میں بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے کارروائی جاری ہے اور امریکہ بھی اس اتحاد کا حصہ ہے ۔ کئی ریپبلیکن لیڈروں نے جن کے اگلے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی توقع ہے، لیبیا کے بارے میں امریکہ کے رول پر تنقید کی ہے ۔

اگرچہ 2012 کے صدارتی انتخاب کی مہم ابھی ابتدائی دور میں ہے، پھر بھی کئی ممکنہ ریپبلیکن امید واروں نے صدر براک اوباما کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے کہ امریکہ اقوام ِ متحدہ کے اختیار کے تحت لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کے فیصلے پر عمل در آمد میں حصہ لے گا۔ تازہ ترین تنقید ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر، Newt Gingrich کی طرف سے کی گئی۔

انھوں نے این بی سی ٹیلیویژن پر ایک انٹرویو میں کہا’’میں مداخلت نہ کرتا ۔ میرے خیال میں قذافی پر دباؤ ڈالنے کے اور بہت سے طریقے موجود تھے۔ علاقے میں ہمارے بہت سے اتحادی ہیں جن کے ساتھ ہم کام کر سکتے تھے۔ اب جب کہ ہم نے وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اگر قذافی اقتدار نہیں چھوڑتے، تو اسے امریکہ کی شکست سمجھا جائے گا۔‘‘

توقع ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں Gingrich کی طرف سے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں اعلان کر دیا جائے گا۔

ریاست میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی کے بارے میں توقع ہے کہ وہ 2012ء کے صدارتی انتخاب میں امید وار ہوں گے۔ انھوں نے اس ہفتے کے شروع میں ایک انٹرویو میں صدر اوباما پر زیادہ عمومی نوعیت کی تنقید کی۔ انھوں نے کہا’’صدر اب تک کسی قسم کی خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دے پائے ہیں۔ ان میں جرأت اور قوت فیصلہ کی کمی ہے۔‘‘

ریاست الاسکا کی سابق گورنر سارا پیلن سے بھی ان کے بھارت کے حالیہ دورے میں لیبیا کے بارے میں اوباما انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں پوچھا گیا۔ انھوں نے جواب دیا’’تذبذب اور پس و پیش کے بجائے زیادہ فیصلہ کن رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔‘‘

اندازہ ہے کہ پیلن بھی اگلے سال وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہیں، اگرچہ بہت سے سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ 2012 میں ریپبلیکن امیدواروں کی فہرست میں شامل ہوں گی۔

صدر اوباما نے اپنے السلواڈور کے حالیہ دورے میں لیبیا کے آپریشن میں امریکہ کی شمولیت کا دفاع کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ علاقے میں تشدد کے بغیر تبدیلیوں کی حمایت کے وسیع تر مقصد کا حصہ ہے۔’’اگروسیع تر بین الاقوامی کوشش کے ایک جزو کے طور پر ہم بھی معمولی سا کردار ادا کر سکیں، تو میرے خیال میں جو فوائد حاصل ہوں گے، ان کو دیکھتے ہوئے یہ لاگت بہت کم ہے۔‘‘

2012 کے انتخاب کے لیئے ریپبلیکن امیدواروں کی نامزدگی میں اب تک بیشتر توجہ داخلی مسائل، خصوصاً معیشت، روزگار اور بجٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے پر رہی ہے۔ لیکن ایسےآثار نظر آ رہے ہیں کہ 2012 کے امیدواروں کے درمیان افغانستان کی جنگ کے بارے میں نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔

ریاست مسی سپی کے گورنر Haley Barbour نے ریاست Iowa کے حالیہ دورے میں افغانستان میں امریکہ کے مشن کے بارے میں شک و شبہے کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو وہاں سے اپنی فوجیں بڑی تعداد میں نکال لینی چاہئیں۔ رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ سروے میں شامل تقریباً دو تہائی افراد کا خیال ہے کہ افغانستان کی جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے ماہر لیری سباتو کہتے ہیں کہ اگلے سال ریپبلیکن کاکس اور پرائمری ووٹنگ میں افغانستان کی جنگ اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔’’میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ دوسرے قدامت پسند ریپبلیکنز جیسے مسی سپی کے گورنر Haley Barbour جو شاید صدارت کے امید وار ہوں گے، افغانستان کی جنگ کے بارے میں شک و شبہے کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ ابھی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اگر عوام کی طرف سے اسی طرح جنگ کے بارے میں بیزاری کا اظہار کیا جاتا رہا، تو پھر یہ مسئلہ انتخابی مہم کا حصہ بن جائے گا۔‘‘

تاریخی اعتبار سے، صدارتی انتخاب میں خارجہ پالیسی کے مسائل ملکی معیشت کے مقابلے میں کم اہم رہے ہیں۔ لیکن اس میں کچھ مستثنیات بھی ہیں۔ اگرچہ اب خارجہ پالیسی کے مسائل کو کچھ توجہ مل رہی ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہےکہ صدر اوباما کی قسمت کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ ووٹرز کی نظر میں ملک کی معیشت کا کیا حال ہے۔ اگر ملکی معیشت کی حالت بہتر ہوتی رہی، تو صدر کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG