رسائی کے لنکس

بن غازی حملہ، سیکیورٹی نظام میں خرابیوں کا انکشاف

  • واشنگٹن

بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد کا بیرونی منظر (فائل)

بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد کا بیرونی منظر (فائل)

گیارہ ستمبر کو بن غازی میں واقع امریکی تنصیب پر دہشت گرد حملے میں امریکی سفیر کرسٹو فر سٹیفن سمیت چار امریکی سفارت کار ہلاک ہوگئے تھے۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں واقع امریکی قونصلیٹ پر 11 ستمبر کو ہونے والے حملے کی تحقیقات کرنے والے ایک آزاد پینل نے کہاہے کہ امریکی تنصیب اور وہاں کام کرنے والے عملے کی سیکیورٹی کے انتظامات میں بڑے پیمانے پر خامیاں موجود تھیں۔

’اکاؤنٹیبلٹی ریویو بورڈ ‘نے کہاہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے سیکیورٹی سے متعلق دو اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح پر نظام کا فیل ہونا اور انتظامی خامیاں لیبیا کے مشرقی شہر میں واقع امریکی تنصیب پر دہشت گردحملہ روکنے میں ناکام رہیں۔

بورڈ نے یہ بھی کہاہے کہ لیبیا میں سفارت کاروں کی طرف سے سیکیورٹی ارکان کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود حملے کے وقت بن غازی کی سفارتی تنصیب میں سیکیورٹی سٹاف کی تعداد کم تھی۔

پینل کے دو سینیئر ارکان ریٹائرڈ سفیر تھامس پکرنگ اور سابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین ایڈمرل مائک مولن بدھ کو ایوان زیریں اور سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے بند کمرے کے اجلاس میں اپنی گواہیاں ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

تحقیقاتی بورڈ کی رپورٹ منگل کو دیر گئے جاری کی گئی تھی۔

گیارہ ستمبر کو بن غازی میں واقع امریکی تنصیب پر دہشت گرد حملے میں امریکی سفیر کرسٹو فر سٹیفن سمیت چار امریکی سفارت کار ہلاک ہوگئے تھے۔

1988 کے بعد یہ کسی ا مریکی سفیر کی ہلاکت کا پہلا واقعہ تھا۔
XS
SM
MD
LG